Tuesday, October 4, 2022

کورونا لمبے عرصے تک رہے گا، ڈبلیو ایچ او

کورونا لمبے عرصے تک رہے گا، ڈبلیو ایچ او

نیو یارک ( 92 نیوز) کورونا وائرس کا کم ہوتا خوف عوامی لاپرواہی کا باعث بنا تو عالمی ادارہ صحت ایک بار پھر میدان میں آ گیا، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھنم نے خبردار کیا ہے کہ کورونا لمبے عرصے تک رہے گا، دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس صحت عامہ سے کہیں زیادہ بڑا مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

کورونا کے خوف سے آزاد ہوتی دنیا کو ڈبلیو ایچ او نے ایک بار پھر متنبہ کردیا ،معاشی پہیہ چلانے اور لاک ڈاؤن سے آزادی کی بین الاقوامی خواہش شاید ابھی پوری نہ ہو سکے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھنم نے کہا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں عالمی وبا میں اضافے کا رحجان تشویش ناک ہے ، کئی ممالک اس وبا کے ابتدائی مراحل میں ہیں ،تاہم وہ ممالک جو اس وبا سے جلدی متاثر ہو گئے تھے، وہاں مریضوں کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ سامنے آ رہا ہے۔

ٹیڈروس آدھنم نے مزید کہا کہ ادارے نے پوری دنیا کو کورونا کے خطرے سے کافی پہلے آگاہ کر دیا تھا ، امید ہے ٹرمپ انتظامیہ ڈبلیو ایچ او کی فنڈنگ معطلی کے بارے میں دوبارہ غور کرے گی۔

عالمی ادارہ صحت کی ہدایات ایک طرف، تاہم دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی کورونا سے متعلقہ پابندیوں کے بتدریج خاتمے کا آغاز کرچکے ہیں ۔ اٹلی، اسپین، جرمنی، ڈنمارک اور ناروے سمیت متعدد یورپی ممالک محتاط انداز میں لاک ڈاؤن میں نرمی کر ہے ہیں جبکہ ایران میں بھی محدود کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی جا چکی ہے۔

ادھراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے، ان کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک وبا پر قابو پانے کا بہانہ بنا کر اقلیتوں اور کمزور طبقات کو نشانہ بنا سکتے ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہو گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نفرت انگیز بیانات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کمزور طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انتونیو گوتریس کا یہ بھی کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی نسلی قوم پرستی، پاپولزم، آمریت اور کچھ ممالک میں انسانی حقوق پر سمجھوتے کی مثالیں پہلے بھی دیکھی جا چکی ہیں ۔ موجودہ بحران وبا سے غیر متعلقہ جابرانہ اقدامات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔