Tuesday, January 25, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

کورونا ریلیف فنڈ کو خود مانیٹر کررہا ہوں، سارے پیسے کا آڈٹ ہوگا، وزیراعظم

کورونا ریلیف فنڈ کو خود مانیٹر کررہا ہوں، سارے پیسے کا آڈٹ ہوگا، وزیراعظم
May 2, 2020
اسلام آباد (92 نیوز) وزیراعظم عمران خان کورونا ریلیف فنڈ کو خود مانیٹر کررہا ہوں، سارے پیسے کا آڈٹ ہوگا، شفاف طریقے سے پیسہ لوگوں کو دیا جائے گا، احساس ہے ہر کسی کو ویب سائٹ پر نام کا اندراج کرانا نہیں آئے گا، ٹائیگر فورس کو کہوں گا مستحق اور بیروزگاروں کا اندراج کرائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے خصوصی ویب پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ احساس پروگرام پر ڈاکٹر ثانیہ مرزا کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، احساس پروگرام میں 81 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ آج ایک ویب سائٹ کا اعلان کررہے ہیں، ویب سائٹ پر بیروزگاری کا بتانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ فنڈ میں پیسے جمع کرانیولوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کورونا ریلیف فنڈ میں ایک روپیہ کا 4 گنا حکومت دے گی، افسوس ہے جتنے لوگ متاثر ہوئے ہم وہاں تک نہیں پہنچ سکے، ساری دنیا میں کوشش ہے کاروبار شروع ہو، امیر ملک بھی اب کاروبار شروع کررہے ہیں، زیادہ دیر تک لاک ڈاؤن کوئی بھی نہیں رکھ سکتا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوشش ہے تعمیراتی صنعت کو مراعات دیں، جتنی زیادہ تعمیراتی صنعت چلے گی اتنا زیادہ لوگوں کوروز گار ملے گا، کوشش ہے مشکل دنوں میں عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے، اس وقت برصغیر میں سب سے کم پٹرول اور ڈیزل کی قیمت پاکستان میں ہے، ایک ماہ میں پٹرول کی قیمت میں 30روپے کمی کی ہے، ڈیزل کی قیمت 42روپے کم ہوئی ہے، بھارت میں پٹرول 153 روپے اور بنگلہ دیش میں 170 روپے لٹر ہے، عمران خان  کہتے ہیں کہ سب کی ذمے داری ہے اب چیزوں کی قیمتیں کم کریں۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کس طرح لوگوں کو روزگار دیں، کورونا لاک ڈاؤن کے باعث پوری دنیا میں مسئلہ آیا ہوا ہے، جو بھی ڈیزل استعمال کرتے ہیں وہ اپنی مصنوعات کی قیمتیں کم کریں، ہمارے کسی پروگرام میں سیاست کی بنیاد پر پیسہ نہیں دیا جائے گا، مستحق لوگوں کی میرٹ پر مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کسی حکومت نے اپنی صنعتوں کو اتنی مراعات نہیں دیں، ہمیں اپنی صنعتوں کو چلانا ہے، اسمال اور میڈیم انڈسٹری کو مراعات دی ہیں، لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹیکس کلیکشن 35 فیصد کم ہوگئی ہے، اگلے چھ ماہ ایک سال تک صورتحال کے ساتھ رہنا پڑے گا، کوئی کہتا ہے 6 ماہ میں ویکسین آئے گی تو کوئی ایک سال کا کہتا ہے۔ وزیراعظم بولے کہ ذمے داری سے اپنے اندر سماجی فاصلے پیدا کریں، انڈسٹری میں ماسک پہن کر جائیں، اپنی ذمے داریاں پوری کریں، پازیٹو ٹیسٹ والوں کو گھروں میں قرنطینہ کرنا چاہیے۔