Sunday, October 2, 2022

کوئٹہ میں تاوان نہ دینے پر مغوی نوجوان قتل

کوئٹہ میں تاوان نہ دینے پر مغوی نوجوان قتل
کوئٹہ ( 92 نیوز) کوئٹہ سے 14 اگست کو اغواء کئے گئے 18 سالہ نوجوان غوث اللہ کو تاوان کی پوری رقم  نہ ملنے پر اغواء کاروں نے  قتل کر دیا ، لواحقین نے لاش کیساتھ گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا ، لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی سستی کے باعث ان کا بچہ مارا گیا۔ گیارہویں جماعت کے طالب علم 18 سالہ سید غوث اللہ کو 14 اگست کے رات نامعلوم افراد نے کوئٹہ سے اغوا کیا ، چند دن بعد اغواء کاروں نے نوجوان کے گھر والوں سے 3 کروڑ روپے تاوان طلب کیا ، جس پر غوث اللہ کے اہل خانہ نے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ غوث اللہ کے چچا زاد بھائی کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسر کے سامنے اغوا کاروں کی کال آئی مگر تفتیشی افسر نے کال ٹریس کرنے کا سسٹم نہ ہونے کا بہانا کردیا ۔ نوجوان کے اہل خانہ نے ساڑھے 3 ماہ بعد تاوان کی 3 کروڑ رقم میں سے صرف 50 لاکھ ہی جمع کئے جو انہوں نے 2 روز قبل ضلعی انتظامیہ کے حوالے کئے مگر افسوس اغوا کاروں کو تاوان کی پہلی قسط ملنے سے پہلے ہی غوث اللہ کو گولیاں مار کر قتل کر دیا اور لاش قلعہ عبداللہ کے علاقے میں پھینک دی ، جسے لیویز اہلکاروں نے سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا ۔ لواحقین لاش لے کر گورنر ہاؤس چوک پہنچ گئے اور ٹائر جلا کر شدید احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ لواحقین کے وفد  نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملاقات بھی  کی ،وزیراعلیٰ بلوچستان کی متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف کی فراہمی پر لواحقین نے احتجاج ختم کر دیا ۔