Saturday, December 3, 2022

کم عمر اور غیرمسلم لڑکی کی زبردستی شادی کرانےوالوں کیخلاف قانونی شکنجہ تیار

کم عمر اور غیرمسلم لڑکی کی زبردستی شادی کرانےوالوں کیخلاف قانونی شکنجہ تیار
اسلام آباد (92نیوز) پارلیمنٹ نے کم عمر اور غیر مسلم لڑکی کی زبردستی شادی کرانے والوں کیلئے شکنجہ تیا ر کرلیا۔ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور مذہبی جذبات مجروح کرنے والے بھی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی نے فوجداری ترمیمی بل 2016ءمنظور کر لیا ہے۔ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ کم عمر لڑکی یا غیر مسلم عورت کی زبردستی شادی کرانے والوں کو دس سال تک کی سزا دی جائے۔ زبردستی شادی کرانے پر دس لاکھ تک جرمانہ بھی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس جرم کے مرتکب افراد کو دونوں سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ بل میں مذہبی جذبات مجروح کرنے یا فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے پر 3 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ کسی گروہ یا فرد کی جانب سے کسی بھی ملزم پر تشدد کی صورت میں تین سال تک قید کی سزا ہوگی۔ تشدد کے نتیجے میں ملزم کی ہلاکت پر دیگر سخت قوانین کا اطلاق بھی ہو گا۔ بل میں موبائل فونز پر رانگ کال‘ غلط ای میل یا ایس ایم ایس کرنے والوں کیلئے بھی سزائیں تجویز کی گئی ہیں جبکہ قانون شہادت میں ترمیم بھی بل کا حصہ ہے۔