Monday, September 26, 2022

کم آمدن والی اکثریتی آبادی نئے بحران کا شکار

کم آمدن والی اکثریتی آبادی نئے بحران کا شکار

اسلام آباد (92 نیوز) مہنگائی بے لگام ہونے سے روپیہ اپنی قدر کھو رہا ہے جس
کے باعث کم آمدن والی اکثریتی آبادی نئے بحران کا شکار ہو رہی ہے۔
روپے کی قیمت تین ماہ میں 7 فیصد گری جس سے کم آمدنی والوں کیلئے مہنگائی اس سے دگنی شرح سے بڑھ رہی ہے۔
معیشت ماہرین کہتے ہیں کہ خام مال، ایندھن ،گیس ،پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔
   ادھر درآمدی اشیا کی بڑھتی قیمتوں کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔ ڈبے کا دودھ اور بچوں کی ٹھوس غذا کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہے اور
حکومت کے پاس اس خطرناک تسلسل کو توڑنے کا کوئی ٹوٹکا نہیں۔
دوسری طرف آئی ایم ایف نے بجلی ،گیس کی قیمتوں اور ٹول ٹیکس مزید بڑھانے کی ہدایت کر دی ہے۔
اس دہرے بحران سے نمٹنے کیلئے کوئی پالیسی سامنے نہیں آرہی۔
معیشت ماہرین کے مطابق ٹرانسپورٹ مہنگی ہو گی تو پیدواری اخراجات اور بڑھے گے۔
معیشت ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ڈیوٹی اور ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہوا تو بے روز گاری میں اضافہ اور آمدنیوں میں کمی کا اثر زندگی کے ہر شعبے کو نا ختم ہونے والے بحران سے دوچار کر دے گا۔