Friday, October 7, 2022

کس کس کی بات کریں، تمام ادارے ہی چور ہیں ، چیف جسٹس گلزار احمد

کس کس کی بات کریں، تمام ادارے ہی چور ہیں ، چیف جسٹس گلزار احمد
 کراچی (92 نیوز) کراچی تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا کل عمارت گرنے سے لوگ مرے، سب آرام سے سوئے۔ کس کس کی بات کریں، تمام ادارے ہی چور ہیں۔ شہر قائد میں تجاوزات کیخلاف سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا گزشتہ روز عمارت کرنے سے ایک درجن سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے گئے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ کسی کو اموات کا کوئی احساس تک نہیں ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا نیوزی لینڈ کی وزیراعظم ایک ہفتہ تک نہیں سوئی تھی۔ لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے ؟ کس ادارے کی بات کریں، سب ہی چور ہیں ۔ کوئی ادارہ کام نہیں کر رہا ۔ چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا ابھی تو مرنے کی گنتی شروع ہوئی ہے ، خدانخواستہ پورا کراچی ہی نہ گر جائے ۔ جب تک اوپر سے ڈنڈا نہ ہو کوئی کام نہیں کرتا ۔ تعمیرات سے کراچی کو بہت بڑا رسک بنا دیا گیا ۔ اگر کیماڑی کا پل گر گیا تو شہر سے تعلق ہی ختم ہو جائے گا ۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا چھوٹے چھوٹے پلاٹس پر اونچی عمارتیں بنا دی جاتی ہیں ۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ کرپٹ افسران کیخلاف کارروائی کی ہے ۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا یہ سب دکھاوے کیلئے کی گئی ہیں ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس مں کہا 3 سال میں ایشیا کے منصوبے بن جاتے ہیں، لیکن کراچی میں گرین لائن مکمل نہیں ہوا ۔ جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا ٹھیکیدار کو پیسے اس وقت دیتے ہیں جب کمیشن ملتا ہے ۔ کراچی میں 1955 کی اور سارے پاکستان کی کچرا بسیں شہر میں چلائی جارہی ہیں ۔