Thursday, October 6, 2022

کسی کو این آر او نہیں ملے گا ، وزیر اعظم

کسی کو این آر او نہیں ملے گا ، وزیر اعظم
October 28, 2019 ویب ڈیسک

ننکانہ ( 92 نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے ننکانہ میں  بابا گورو نانک یونیورسٹی  کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ  جب تک زندہ ہوں کسی کو این آر او نہیں ملے گا ، بطور وزیر اعظم پہلی تقریر میں کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب  یہ سب اکٹھے ہو جائیں گے ۔

آزادی مارچ

جمعیت علمائے اسلام کے  آزادی مارچ سے متعلق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ  پہلی تقریر میں ہی واضح کر دیا تھا کہ  ایک وقت آئے گا جب تمام کرپٹ عناصر اکٹھے ہو جائیں گے ، سب مک مکا کرنے والے  ، ملک کو لوٹنے والے اکٹھے ہو جائیں گے  ، میں آج سب کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ چاہے سب  اکٹھے ہو کر مارچ کریں ،  جب تک میں زندہ ہوں کسی کو این آر او نہیں ملنے والا ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ کبھی ایسا آزادی مارچ دیکھا یا سنا ہے جو وزیر اعظم کا استعفیٰ چاہتا ہو ، کہیں جا کر یہ کہتے ہیں کہ  یہ یہودی لابی ہے ، کبھی کہتے ہیں قادیانیوں سے مل گیا ہے ،کبھی کہتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی بہت ہے ، عالمی بینک نے ہماری تعریف کی ہے کہ  پاکستان  انویسٹرز کیلئے ماحول ٹھیک کرنے والے جنوبی ایشیائی ممالک میں سر فہرست ہے ، ان کے مارچ کا مقصد یہ نہیں کہ حکومت فیل ہو رہی ہے  بلکہ انہیں مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کامیاب ہو رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے سال ہم نے جتنا ٹیکس اکٹھا  کیا اس میں سے آدھا ان کے ادوار میں لئے گئے قرض کی اقساط کی ادائیگی میں چلا گیا،   ن لیگ ، پی پی اور پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سال کا موازنہ کر کے دیکھ لیں ، مہنگائی سب سے کم پی ٹی آئی کے پہلے سال میں بڑھی ، مسئلہ وہی ہے جومیں نے  پہلی تقریر میں کہا تھا کہ  یہ سب اکٹھے ہو جائیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ  ہم نے ان پر کوئی کیس نہیں بنایا ، تمام کیسز ان کی ہی  حکومت کے بنے ہوئے  ہیں ،  کبھی  ملک کا وزیر اعظم  کسی دوسرے ملک  میں نوکری کرتا ہے ، وزیر داخلہ بھی اقامہ لیتا ہے ،اقامہ  کرپشن کا طریقہ ہے ، جب ہم  پاکستانیوں کا  ریکارڈ مانگتے ہیں تو اقامہ ہولڈرز کا  ریکارڈ نہیں دیا جاتا  اسے  اسی ملک کا شہری تصور کیا جاتا ہے ۔

تعلیم پر زور

وزیر اعظم نے کہا کسی وقت میں ہم خطے میں تعلیم میں بہت آگے تھے ، لیکن ماضی کے حکمرانوں کی ترجیحات میں تعلیم شامل نہ تھی جس کے باعث ہم بہت پیچھے رہ گئے ، بابا گورونانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد  رکھا گیا ہے ، یہ یونیورسٹی جدید ٹیکنالوجی  سے آراستہ ہو گی ، جتنی اوقاف کی زمین ہے جن پر بے دردی سے قبضے ہو رہے ہیں  ، میں یہ چاہتا ہوں کہ اوقاف کی زمین پر یونیورسٹی بنائی جائے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ  اوقاف کی زمینوں پر  یونیورسٹی اور اسپتال بنا کر  ان کا صحیح فائدہ اٹھایا جائے ،  بابا گورو نانک ، بابا فرید اور بلھے شاہ  جیسے بزرگوں نے تمام زندگی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے گزاری ،  عزت اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اللہ عزت اسے عطا کرتا ہے جو انسانیت کی خدمت کرتا ہے ۔ دنیا میں بہت سے امیر لوگ آئے ،  بہت سوں کو تو ان کے بچے بھی بھول گئے ،دنیا صرف انہیں یاد رکھتی ہے جو  انسانیت کی خدمت کرتے ہیں ۔

کرتار پور راہداری

عمران خان   نے کہا کہ مخالفین کہتے ہیں  ہندوستان کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے اور آپ کرتار پور  راہداری کھول رہے ہیں  ،  میں بتانا چاہتا ہوں کہ کرتار پور اور ننکانہ ان کے  مقدس مقامات ہیں ، ان کا راستہ نہیں  روکنا چاہئے ،سعودی عرب کی چاہے کسی بھی ملک سے مخالفت  ، عداوت ہو مگر وہ کسی کو بھی مکہ اور مدینہ آنے سے نہیں روکتے ۔

یکساں نصاب

ان کا کہناتھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کو دنیاوی علوم سے بھی آراستہ کرنا ہے  ،  مغلیہ ادوار کے آخری اوقات میں دہلی کی تمام اشرافیہ  سکھ ، ہندو ، عیسائی  بھی دو مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے  ، کسی بھی ملک میں تین تعلیمی نصاب نہیں چلتے کہ ایک طرف انگریزی میڈیم ، ایک طرف اردو میڈیم اور ایک طرف دینی  نصاب ہو ۔  ہمیں پورے ملک کے لئے یکساں نصاب رائج کرنا ہے ۔

زندگی کی ضمانت

وزیر اعظم نے کہا کہ عدالت نے ہم سے پوچھا کہ کیا آپ نواز شریف کی زندگی کی ضمانت دے سکتے ہیں، میں اپنی زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتا ،  ہم نے بہترین طبی امداد فراہم کی ہیں نواز شریف کو ، اس سلسلے میں کراچی سے ڈاکٹر ز بلوائے گئے ، شوکت خانم کے  بہترین ڈاکٹرز کو بھیجا کہ نواز شریف  کی صحت  کو  چیک کریں ۔ انہوں نے کہا کہ  جس قو م میں قانون کی بالا دستی نہ ہو  وہ کبھی طاقتور قوم نہیں بن سکتی ، پاکستان میں طاقتور کے لئے وی آئی پی سسٹم دیگر کے لئے بنیادی ضروریات نہیں ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اللہ کی برکات کا نزول پاکستان پر نہیں ہوتا ، ریاست مدینہ میں تمام انسانون کا درجہ یکساں تھا ۔