Sunday, December 4, 2022

کرہ ارض پر مخلوقات کے ناپید ہونے کا نیا مرحلہ شروع ہو گیا: سائنسدانوں کا انکشاف

کرہ ارض پر مخلوقات کے ناپید ہونے کا نیا مرحلہ شروع ہو گیا: سائنسدانوں کا انکشاف
واشنگٹن (ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کرہ ارض پر مخلوقات کی ناپیدی کا نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے اور ممکنہ طور پر انسان بھی ان میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق تین امریکی یونیورسٹیوں سٹین فورڈ، پرنسٹن اور برکلے کی مشترکہ تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں ریڑھ کی ہڈی والے جاندار 114 گنا زیادہ تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال ڈیوک یونیورسٹی نے جو رپورٹ شائع کی تھی تازہ رپورٹ اس کی تصدیق کرتی نظر آتی ہے۔ نئی تحقیقی رپورٹ کے ایک مصنف نے بتایا ہے کہ ہم اب وسیع پیمانے پر ناپیدی کے چھٹے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس طرح کا آخری مرحلہ ساڑھے چھ کروڑ سال قبل پیش آیا تھا جس میں ڈائنوسار ختم ہو گئے تھے اور عین ممکن ہے کہ ایک بڑے شہابیے کے زمین سے ٹکرانے کے سبب ایسا ہواتھا۔ نئی تحقیق کے سربراہ مصنف جیررڈو سیبیلوز نے کہا ہے کہ اگر ایسا جاری رہا تو زندگی کو پھر سے بحال ہونے میں کروڑوں سال لگ جائیں گے اور ہماری اپنی نسل کے جلد ہی ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔ echidna180714   تحقیق میں کہا گیا ہے کہ شہد کی مکھیاں تین انسانی نسلوں کے دوران پولینیشن یا زیرہ پوشی کی صلاحیت کھو دیں گی۔ سائنسدانوں نے پانی میں رہنے والے جانداروں کی جانچ سے ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کے ناپید ہونے کی شرح کا تاریخی طور پر تجزیہ کیا ہے۔ اس سے انہیں یہ پتہ چلا کہ ناپید ہونے کی شرح اس وقت سے 100 گنا سے بھی زیادہ ہے جب بڑے پیمانے پر ناپید ہونے کا مرحلہ شروع نہیں ہواتھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1900ءسے اب تک 400 سے زیادہ ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کی اقسام نا پید ہو چکی ہیں۔ یہ مطالعہ سائنس ایڈوانسز نامی جرنل میں شائع ہوا ہے اور انہوں نے اس کی وجوہات میں آب و ہوا کی تبدیلی، آلودگی اور جنگلات میں کمی کو شمار کیا ہے۔ فطرت کے تحفظ کی بین الاقوامی یونین آئی یو سی این کے مطابق ہر سال تقریبا 50 اقسام کے جاندار ناپید ہونے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ گزشتہ سال ڈیوک یونیورسٹی کیرولینا کے ماہر حیاتیات سٹوارٹ پم نے بھی متنبہ کیا تھا کہ انسان وسیع پیمانے پر ناپید ہونے کے چھٹے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔