Saturday, September 24, 2022

کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ذمہ دارنیب قرار

کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ذمہ دارنیب قرار

اسلام آباد ( 92 نیوز)  کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ذمہ دارنیب قرار، سپریم کورٹ نے وفاقی کابینہ سے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کی منظوری لینے کی ہدایت اورنئی احتساب عدالتوں کیلئے انفراسٹرکچر بنانے، ایک ماہ میں نیب رولزبنا کرپیش کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوگ سالوں تک نیب میں پھنس جاتے ہیں، 30 دن میں فیصلے کے بجائے 30 سال تک لوگ پڑے رہتے ہیں، نیب کے ریفرنس کی بنیاد ہی غلط ہوتی ہے، تفتیشی افسران میں اہلیت ہے نہ صلاحیت۔

لاکھڑا پاورپلانٹ کی تعمیر میں بے ضابطگیوں کے کیس میں  چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی ، دوران سماعت چیف جسٹس نے چیئرمین نیب کو کیس کا تفتیشی افسر تبدیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ نیب میں تفتیش کا معیار جانچنے کیلئے کوئی نظام نہیں ، نقائص سے بھرپور تفتیشی رپورٹ ریفرنس میں تبدیل کر دی جاتی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا ریفرنس دائر کرنے کے بعد نیب اپنی غلطیاں سدھارنے کی کوشش کرتا ہے ؟، غلطیوں سے بھرپور ریفرنس پر عدالتوں کو فیصلہ کرنے میں مشکلات ہوتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا آغاز ہی نیب آفس سے ہوتا ہے ، قانونی پہلوؤں کا تفتیشی افسران کو پتہ نہیں ہوتا، تحقیقات سالوں چلتی رہتی ہیں،ریفرنس میں کوالٹی نہیں ہوتی، ایک ہی گواہ کافی ہوتا ہے لیکن 50،50 لوگوں کو گواہ بنا لیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے تفتیش مکمل ہونے سے پہلے گرفتاریوں پر بھی سوال اٹھا دیے

جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دئیے کہ تفتیش مکمل ہونے سے پہلے گرفتار کرنے کی کیا منطق ہے؟ ، اگر ملزم تفتیش میں جواب نہ دے تو گرفتاری سمجھ آتی ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل نیب نے تنخواہیں کم اور دھکمیاں ملنے کی دہائیاں دیں، 21 سال سے نیب کے رولز ہی نہ بننے کا انکشاف کیا چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ نئی عدالتوں کے قیام میں 2.86 ارب کا مسئلہ چوزے کی خوراک کے برابر ہے، نیب مقدمات جیتے تو ہزار ارب سے زائد کی ریکور ہو سکتی دو ارب تو نیب کے ایک کیس سے ہی نکل آئیں گے ،عدالت نے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی۔