Friday, September 30, 2022

کرونا سے عالمی معیشت اور سیاحت بھی بری طرح متاثر

کرونا سے عالمی معیشت اور سیاحت بھی بری طرح متاثر
لاہور (92 نیوز) کرونا وائرس نے عالمی معیشت کی چُولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ معیشت کے ساتھ عالمی سیاحت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ عالمی اسٹاک مارکیٹس 2016 کے بعد بدترین بحران سے دوچار ہوچکی ہیں۔ کرونا وائرس نے جہاں انسانی المیے کو جنم دیا ہے وہیں۔ عالمی اقتصادیات کی بھی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس کی معیشت کو جھٹکا نہیں لگا۔ عالمی معاشی ادارے تذبذب کا شکار ہوچکے ہیں۔ معیشت کی بحالی کے اثرات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان دنوں دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں شدید مندی کا شکار ہیں۔ ایک ہفتے میں 9 کھرب ڈالر سرمایہ کاروں کے ڈوب چکے ہیں۔ امریکی اسٹاک مسلسل شدید مندی کا شکار ہے۔ گزشتہ ہفتے وال اسٹریٹ میں 2 فیصد سے زائد گراوٹ ہوئی ہے۔ ایشیاء کی سب سے مضبوط سمجھی جانے والی جاپان اسٹاک ایکسچینج اب تک 2 اعشاریہ 7 فیصد تک گرچکی ہے جبکہ جنوبی کوریا 2 اعشاریہ 2 ، شنگھائی اسٹاک 1 اعشاریہ 2 اور ہانگ کانگ کی مارکیٹ میں 2 اعشاریہ 3 فیصد تک گراوٹ آچکی ہے۔ رواں ہفتے لندن اسٹاک 3 فیصد، جرمنی 3 اعشاریہ 5 اور فرانس کی مارکیٹ میں 3 اعشاریہ 6 فیصد تک کمی ہوچکی ہے۔ سرمایہ کاروں کے اربوں پاؤنڈز اور یوروز ڈوب چکے ہیں۔ عالمی مارکیٹس میں تیل کی قیمتیں بھی زمین پر آچکی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں رواں ہفتے 4 فیصد کم ہو کر 47 اعشاریہ 80 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہیں۔ کرونا وائرس کے باعث تجارتی سرگرمیاں ماند پڑنے سے سونے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ رواں ہفتے سونے کی قمیت 1688 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح پر تھی۔ ماہرین کے مطابق مشرق بعید کے ممالک کی انکم میں 211 ارب ڈالر کمی ہوچکی ہے، اگر یہی صورتحال رہی تو یہ کمی بڑھتی جائے گی جبکہ اس سال کرونا وائرس کی وجہ سے ان ممالک کی سالانہ شرح نمو صرف 4 فیصد تک رہے گی۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی تازہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث فضائی کمپنیوں کو 63 ارب سے 113 ارب ڈالر تک نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ اب تک فضائی کمپنیوں کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ کرونا وائرس کے باعث عالمی معیشت کو ممکنہ نقصان پر اے ڈی بی نے بھی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستانی معیشت کو مجموعی طور پر 5 ارب ڈالرجبکہ صرف پاکستان کی زراعت کو ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔ بزنس، تجارت، پرسنل اور پبلک سروسز کو 1 ارب 94 کروڑ ڈالر نقصان کا خدشہ ہے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے پاکستان میں تقریبا ساڑھے نو لاکھ افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔