Wednesday, November 30, 2022

کرد فورسز کی کارروائیوں سے ترکی پریشان، فوج کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ

کرد فورسز کی کارروائیوں سے ترکی پریشان، فوج کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ
انقرہ (ویب ڈیسک) شام سے ملحقہ بارڈر پر کرد فورسز کی بڑھتی کارروائیوں سے پریشان ترکی نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر فوج کو میدان عمل میں لانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ترک وزیر اعظم احمد اوگلو نے کہا ہے کہ ترکی کو اپنی سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر تشویش ہے اور وہ ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کےلئے تیار ہیں۔ ترک میڈیا کے مطابق صدر کی زیر صدارت نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں شام کے سرحدی علاقوں میں ہونے والی جارحانہ کارروائیوں میں تشویش کا اظہار اور فوجی آپریشن کے حوالے سے غور کیا گیا۔ ترکی کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی علاقے میں ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں اور خود مختار کرد ریاست کے ممکنہ قیام سے بھی فکر مند ہے۔ اس حوالے سے ترکی کے صدر طیب اردگان بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی جنوبی سرحدوں کے ساتھ کسی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے۔ ادھر شامی کرد فورسز عرب فورسز کے خلاف اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے بارڈر کے ملحقہ شہر کوبانی پر بھی قبضہ حاصل کر لیا ہے۔