Tuesday, December 7, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

کراچی : وزیرخزانہ زمینوں کےمنہ مانگےدام نہ دینےپرسرکاری افسر سہیل پٹھان کےدشمن بن گئے

کراچی : وزیرخزانہ زمینوں کےمنہ مانگےدام نہ دینےپرسرکاری افسر سہیل پٹھان کےدشمن بن گئے
March 12, 2016
  کراچی(92نیوز)سائیں سرکار میں ایمانداری جرم بن گئی  وزیر خزانہ سندھ مراد شاہ  رشتے داروں اور فرنٹ مین کو زمینوں کے منہ مانگے دام نہ دینے پر سرکاری افسر سہیل پٹھان کے دشمن بن گئے ۔ تفصیلات کےمطابق  وزیرخزانہ سندھ مراد علی شاہ کی حکم عدولی  سرکاری افسر سہیل پٹھان کی زندگی اجیرن ہوگئی ۔ آغا سہیل پٹھان کی بدقسمتی شروع ہوئی  دوہزار بارہ تیرہ میں جب وہ  ڈپٹی کمشنر جامشورو تھے ۔ ذرائع کے مطابق  وزیرخزانہ کے کچھ رشتے داروں کی زمین  مزارلال شہباز قلندر توسیع منصوبے میں آرہی تھی  جس کے لیے سہیل پٹھان کو حکم ہوا کہ زمین  15 ہزار روپے اسکوائر فٹ کے حساب سے خریدی جائے جس کے لیے ایک ارب روپے کے فنڈز بھی جاری کردیئے گئے مگر اس زمین کی مارکیٹ ویلیو ڈھائی ہزار روپے اسکوائرفٹ سے زیادہ نہیں تھی سہیل پٹھان نے مارکیٹ ریٹ پر زمین خریدی اور 55 کروڑ روپے بچا کر محکمہ خزانے میں واپس جمع کرا دیئے ۔ وزیرخزانہ نے انتقاماً زمین خریدنے والے اسسٹنٹ کمشنر ہدایت اللہ کو عہدے سے ہٹادیا ۔ مراد علی شاہ اس وقت مزید آگ بگولہ ہوئے جب آغا سہیل پٹھان نے ان کے مبینہ فرنٹ مین حاجن شاہ کو نوازنے سے انکارکردیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیہون سے لاڑکانہ تک ڈبل روڈ حاجن شاہ کی تین ایکڑ بنجر اراضی سے گزر رہا تھا وزیر خزانہ نے یہ اراضی کمرشل ریٹ پر خریدنے کا حکم دیا مگرسہیل پٹھان ڈٹ گئے  ان کی ایمانداری کی بدولت سرکار تو کروڑوں روپے کے نقصان سے بچ گئی  مگر ان کے ستارے گردش میں آگئے  بطور سزا سہیل پٹھان کو ڈیڑھ برس تک بار بار اوایس ڈی بنا کر گھر بٹھایا گیا   رواں برس ڈپٹی کمشنر دادو تعینات ہوئے مگر وزیر خزانہ کی شدید ناراضی کے بعد 4 مارچ کو انہیں  پھر عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق  مراد علی شاہ کے مبینہ فرنٹ مین حاجن شاہ خود بھی کسی وزیر سے کم نہیں، سرکاری افسروں کی طلبی اور بے عزتی کرنا ان کا معمول ہے  ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس سے جاری ہونے والے فنڈز کا30 فیصد ان کے اکاؤٹ میں جاتا ہے  خود مراد علی شاہ کے کیا کہنے موصوف پروٹوکول کے شوقین ہیں  چاہتے ہیں کہ کراچی سے جب نکلیں تو نوری آباد سے ان کے آبائی گوٹھ تک تک ڈپٹی کمشنر ، اسسٹنٹ اور پولیس افسران کی قطاریں لگی ہوں اور پروٹوکول دینے سے انکار ہی تیسری وجہ بنی سہیل پٹھان کے زیر عتاب آنے کی ۔