Sunday, March 3, 2024

کراچی: واٹرکمیشن نے پانی کے تمام آراو پلانٹس کی آڈٹ رپورٹ طلب کرلی

کراچی: واٹرکمیشن نے پانی کے تمام آراو پلانٹس کی آڈٹ رپورٹ طلب کرلی
February 13, 2017

کراچی (92نیوز) سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل کردہ واٹر کمیشن نے سندھ بھر میں لگائے گئے پانی کے آراو پلانٹس کی آڈٹ رپورٹ تین روزمیں طلب کر لی۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس اقبال کلہوڑ نےریمارکس دیے کہ آر او پلانٹس کا کچھ کام خراب نہیں سارا کام ہی غلط ہورہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل کردہ واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس اقبال کلہوڑ نے چیف سیکرٹری سے آر او پلانٹ کی آڈٹ رپورٹ اور صوبےمیں لگے آراو پلانٹ کی تنصیب سے متعلق تفصیلات تین روز میں طلب کرلیں۔ کمیشن نے سندھ میں وفاقی حکومت کے تحت چلنے والی ڈسپنسریوں کی فہرست اور فضلے کے اخراج کی مکمل رپورٹ بھی طلب کی۔

کمیشن کے سربراہ نے ریمارکس دئیے کہ کچھ گڑبڑ نہیں سارا کام غلط ہورہا ہے۔ اتنے پیسے جاری ہوئے جو گن نہیں سکتے۔ اربوں روپے آراو پلانٹ کی مد میں لگا دئیے گئےلیکن کوئی نہیں جانتا کہ کیسا پانی پی رہے ہیں۔

کمیشن کے سربراہ کا کہناہے کہ پورا سندھ گھوم کر آگئے کہیں پانی چیک کرنے کانظام نہیں۔ بدین، عمرکوٹ، مٹھی اوردیگر علاقوں میں گندہ پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ کچھ آر او پلانٹ خراب ہیں ہم کہتے ہیں جو کام کررہے ہیں وہ بتادیں اس کی رپورٹ منگواتے ہیں۔

جسٹس اقبال کلہوڑ نے کہا کہ میر پور خاص میں اسپتال کے پانی کے ٹینک میں مردہ چھپکلیاں اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ تین کروڑ روپے ماہانہ آر او پلانٹ کی دیکھ بھال پر خرچ کیا جاتا ہے۔

کمیشن نے کہاکہ پانی کی کوالٹی چیک کرنے کے لیے لیب موجود نہیں ہے۔ مٹھی کی لیب بھی ناکارہ ہے، پانی کی کوالٹی چیک کرنے پر سالانہ کروڑوں رو پے لگائے جاتے ہیں۔

پبلک سیکرٹری ہیلتھ نے بتایا کہ حیسکو نے ایک سو بیس ایم ایم کی کیبل لگائی ہے۔ عمرکوٹ میں تین سو ایم ایم کی کیبل کی تنصیب کی ضرورت ہے۔ کمیشن نے سیکرٹری پبلک ہیلتھ سے تین روز میں رپورٹ طلب کرلی۔ بتایاجائے کن کن اضلاع میں ٹرانسفارمر  نہیں لگائے گئے۔ کمیشن نے سماعت کل تک ملتوی کردی۔