Tuesday, February 7, 2023

کراچی والے سفری سہولیات کو ترس گئے ، گرین لائن پروجیکٹ بھی تاخیر کا شکار

کراچی والے سفری سہولیات کو ترس گئے ، گرین لائن پروجیکٹ بھی تاخیر کا شکار
کراچی (92 نیوز) کراچی والے سفری سہولیات کیلئے ترس گئے۔ ٹوٹی پھوٹی بسیں شہریوں کا منہ چڑاتی ہیں۔ وفاقی حکومت نے مشکلات میں کمی کیلئے گرین لائن پروجیکٹ تو دے دیا، لیکن منصوبہ ہے کہ مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اب پہلا فیز مئی  2018 میں مکمل کرنے کا خواب دکھا دیا گیا۔ وفاقی حکومت نے گرین لائن منصوبے کا تحفہ دیا ۔ فروری 2016 میں پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ فیز ون پر کام سست روی کا شکار ہے ۔ پیدل چلنے والوں کیلئے پُل، لفٹ اور برقی سیڑھیوں کی تعمیر تک نہیں ہو سکی ۔ سندھ اور وفاقی حکومتیں ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دے رہی ہیں ۔ سرجانی سے گرومندر تک اسٹرکچر اور اسٹیشنز کی تعمیر وفاقی حکومت نے کرنی تھی  جبکہ بسوں کا انتظام کرنا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن عملی کام نظر نہیں آرہا ۔ جگہ جگہ کھدائی نے سڑکیں تباہ کر دیں ۔ شہریوں کو بھی کوئی امید نظر نہیں آرہی ۔ منصوبے کی تاخیر کی ذمہ دار کوئی بھی حکومت ہو لیکن گرین لائن پرورجیکٹ پر لاگت کا تخمینہ 17 ارب سے بڑھ کر 24  ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔