Sunday, October 2, 2022

کراچی میں 2013 سے قبل 10کروڑ تک یومیہ بھتہ مانگا جاتا تھا، ڈی جی رینجرز

کراچی میں 2013 سے قبل 10کروڑ تک یومیہ بھتہ مانگا جاتا تھا، ڈی جی رینجرز

کراچی ( 92 نیوز ) ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید نے کہا ہے کہ کراچی میں 2013 سے قبل یومیہ 8 سے 10 کروڑ روپے بھتہ مانگا جاتا تھا ۔ رواں سال بھتہ کوری کے چار واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ۔ ٹارگٹ کلنگ میں 45 افراد جاں بحق ہوئے ۔15 واقعات میں انصار الشریعہ ملوث تھی ۔
ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کیخلاف کسی قوم کو برداشت نہیں کریں گے ۔ کسی سیاسی جماعت میں ٹارگٹ کلرز کی تنظیم نہیں بننے دیں گے ۔ کسی کی سوچ پر پہرہ نہیں لگ سکتا لیکن ہم کسی کو ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔
ڈی جی رینجرز نے مزید کہا کہ جن کا نام شہر میں خوف کی علامت تھا ان کیلئے معافی نہیں ہے ۔ آپرشن کے چار برسوں میں جرائم میں نمایاں کمی آئی۔ 2013 سے قبل یومیہ 8 سے 10 کروڑ بھتہ مانگا جاتا تھاجبکہ رواں سال بھتہ خوری کے چار واقعات رپورٹ ہوئے۔ 2017 میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا ۔ ٹارگٹ کلنگ میں45 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 15 واقعات میں انصار الشریعہ ملوث تھی۔
ڈی جی رینجرز نے بتایا کہ 2013 میں کراچی کرائم انڈیکس میں چھٹے نمبر پر تھا اب 52 پر ہے ۔ رواں سال 1400سے زائد اسٹریٹ کرمنلز اور ڈکیت پولیس کے حوالے کئے ۔ ایسے ملزمان بھی تھے جو تیسری اور چوتھی بار گرفتار ہوئے ۔
ڈی جی رینجرز محمد سعید نے کہا کہ اسٹریٹ کرمنلز، ڈاکوؤں پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات چلنا چاہئیں۔