Tuesday, December 5, 2023

کراچی: انصار الشریعہ کے گرفتار کارندے دانش کے بارے اہم انکشافات

کراچی: انصار الشریعہ کے گرفتار کارندے دانش کے بارے اہم انکشافات
September 7, 2017

کراچی میں حالیہ دہشتگردی میں ملوث گروہ انصار الشریعہ کےگرفتار کارندے دانش کے بارے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ملزم لندن سے اعلی تعلیم یافتہ ہے اور کئی اہم وارداتوں میں شامل رہا ہے۔

خواجہ اظہار پر حملے میں مارے جانے والا ملزم حسان داود یونیورسٹی میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ملزم لندن سے الیکڑونک سائنس کا ٹیچر تھا اور آدھی تنخواہ تنظیم کو دیتا تھا تعلیم یافتہ ہے اورکئی اہم وارداتوں میں شامل رہا ہے۔

جامعہ کراچی کی اسٹاف کالونی سے گرفتارملزم دانش لندن سے اعلی تعلیم حاصل کی۔ ملزم 2015 میں پاکستان واپس آیا اور کچھ عرصے بعد انصارالشریعہ میں شمولیت اختیارکی۔

ذرائع کے مطابق ملزم دانش دہشتگردی کی حالیہ وارداتوں میں شامل رہا ہے۔ ملزم کی نشاندہی پر اس کے گھر سے لیپ ٹاپ اور موبائل فونز برآمد کرلئے گئے ہیں۔ ملزم کے والد اسلامک اسٹڈیز کے سابق ڈین عبدالرشید کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

باپ بیٹے سے پروفیسر شکیل اوج کے قتل سے متعلق تفتیش بھی کی جارہی ہے۔ خواجہ اظہار پرحملے میں مارے جانے والا ملزم حسان عرف ولید کی عمرستائس برس تھی۔ گلزارہجری کا رہائشی تھا اور کچھ عرصہ پہلے ہی افغانستان سےتربیت لیکر واپس پاکستان آیا تھا۔

ذرائع کے مطابق حسان الیکٹرونک انجینئر تھا۔ این ای ڈی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا، اور داؤد یونیورسٹی میں الیکٹرونک سائنس کا ٹیچرتھا۔ اس کی تنخواہ پینتالیس ہزار روپے تھی، آدھی تنخواہ گھر اور آدھی تنظیم کو دیتا تھا۔