Monday, November 28, 2022

کالا دھن سفید کرنے کیلئے شریف خاندان اکنامک ریفارمز ایکٹ لایا ، فواد چودھری ‏

کالا دھن سفید کرنے کیلئے شریف خاندان اکنامک ریفارمز ایکٹ لایا ، فواد چودھری ‏

اسلام آباد ( 92 نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری ‏ نے  اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن پر کڑی تنقید کی ۔

فواد چودھری ‏ نے کہا کہ  منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا معاملہ 1985 میں اس وقت شروع ہوا جب نواز شریف  وزیر اعلیٰ بنے ، بعد میں وہ  وزیر اعظم بنے ۔

فواد چودھری ‏ نے کہا کہ  نواز شریف نے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم بن کر خوب  لوٹ مار کی   اور یہ سارا پیسہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک بھجوا دیاگیا ،  بعد ازاں شریف  خاندان کالا دھن  سفید کرنے کیلئے  اکنامک ریفارمز ایکٹ لایا۔

فواد چودھری نے کہا کہ 1996سے98 تک اتھارٹیز نے نوٹ کیا کہ مشکوک  ٹرانزکشنز ہوئیں،تحقیقات میں پتہ چلا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے مالک  نواز شریف ہیں۔

وزیر اطلاعات و نشریات نےبتایا کہ  اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کا  طریقہ متعارف کرایا،پاکستان سے پیسے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے باہر بھیجے گئے،اتھارٹیز نے یہ نوٹ  کیا گیا 200 کے قریب  سوفٹ میسجز کیے گئے ہیں ۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کا پیسہ زرداری اینڈ کمپنی نے استعمال کیا ، زرداری صاحب نے جعلی اکاؤنٹوس کی بجائے پورا بینک ہی بنا لیا  ، بختاور بھٹو کی  سالگرہ کا خرچہ بھی جعلی اکاؤنٹس سے جاتا رہا ۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ 2008میں شہباز شریف صاحب کو نصرت بی بی نے پیسے دیے تاکہ وہ اپنی لگژری کار کی ڈیوٹی  دے سکیں، اسلام آباد میں گھر خریدا، ماڈل ٹاؤن کے گھر کی پیمنٹ  بھی  ٹی ٹی کے پیسوں سے ہوئی،

شہباز شریف   نے اپنی بیگم کیلئے  3اپارٹمنٹس خریدے ان کی بھی  پیمنٹ ٹی ٹی کے ذریعے ہوئی۔