Wednesday, December 7, 2022

ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری ،وفاقی اور سندھ حکومت میں ٹھن گئی

ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری ،وفاقی اور سندھ حکومت میں ٹھن گئی
اسلام آباد(92نیوز)سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم  حسین کی گرفتاری  پر وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان ٹھن گئی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے شکوہ کیا کہ رینجرز نے ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کے لئے حکومت سندھ سے اجازت  طلب نہیں کی جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو رینجرزکے آپریشن پراعتراض ہے تواس کا واضح اظہار کرے۔ تفصیلات کےمطابق کیس کی سماعت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتح ملک نے کہا کہ رینجرز نے ڈاکٹر عاصم  حسین کی گرفتاری کے لئے اجازت نہیں لی، ڈاکٹر عاصم کی نظر بندی غیر قانونی ہے۔ اس  حکم نامے کو منسوخ کیا جائے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رینجرز ٹھیک کام نہیں کر رہی جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ رینجرز مثبت طریقے سے کراچی آپریشن کر رہی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت سندھ کو رینجرز کے آپریشن پر اعتراض ہے تو موقف واضح کرے، عدالت نے استفسا ر کیا کہ اس سے پہلے رینجرز نے کتنے ملزموں کی گرفتاری کے لئے حکومت سندھ سے اجازت طلب کی؟ایڈووکیٹ جنرل سندھ عدالت کو کوئی جواب نہ دے سکے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین نے دلائل میں کہا کہ رینجرز قانون کے مطابق کراچی آپریشن کر رہی ہے، قانون کی روشنی  میں رینجرز کو اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی مشتبہ شخص اور دہشت گردوں کی  مالی معاونت کے شبے میں گرفتار کر سکتی ہے،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مزید دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔