Thursday, October 6, 2022

ڈالر کی 109 سے 111 روپے تک تیزی سے گردش

ڈالر کی 109 سے 111 روپے تک تیزی سے گردش

کراچی (92 نیوز) انٹر بینک مارکیٹ میں مسلسل تیسرے روز بھی ڈالر بے لگام ہے۔ ٹریڈنگ کے دوران امریکی ڈالر کی ایک سو نو سے ایک سو گیارہ روپے تک تیزی سے گردش نے معیشت کے پہیے سے جڑے تمام افراد کو بے چینی میں مبتلا کر دیا۔
گزشتہ کاروباری کے اختتام کی طرح رواں ہفتے کے آغاز سے ہی کرنسی مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھائو کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔
جمعہ کو ڈالر ایک سو پانچ روپے پینسٹھ پیسے سے بڑھ کر ایک سو سات روپے، پیر کو ایک سو آٹھ روپے پچاس پیسے اور آج ٹریڈنگ کے دوران حسب معمول ڈالر 111 روپے تک جا پہنچا جس کے بعد اب یہ ایک سو نو روپے پچاس پیسے سے ایک سو دس روپے پچاس پیسے کی درمیان تیزی سے گھوم رہا ہے۔
انٹربینک کی دیکھا دیکھی اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر نے روپے کو پچھاڑ رکھا ہے جہاں خریدار کم ہونے کا بھی اثر ہوتا نظر نہین آ رہا ہے اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
کرنسی ڈیلرز کہتے ہیں کہ ڈھائی ارب ڈالر کے سکوک اور یورو بانڈ کی فروخت سے روپے کو سہارا تو ملا ہے لیکن موجودہ صور تحال میں یہ رقم بھی روپے کی قدر میں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں نا کام نظر آ رہی ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے پہلے ہی سے روپے کی قدر میں بڑی گراوٹ کے اندیشے ظاہر کر چکے ہیں جو اب حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔
ایسے میں کرنسی مارکیٹ کی صور تحال پر اسٹیٹ بینک نے اپنے ہاتھ کھینچتے ہوئے سارا ملبہ زرمبادلہ ذخائر پر دباو کو قرار دیا۔
صرف تین روز میں روپے کی قدر چار سے پانچ روپے کے درمیان گر چکی ہے لیکن لگتا ہے کہ حکومت ڈالر کے سامنے روپے کی ہار مان چکی ہے جس کا خمیازہ عوام کو مہنگائی کے طوفان کی صورت بھگتنا ہو گا۔