Monday, November 28, 2022

ڈالر ایک بار پھر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

ڈالر ایک بار پھر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
کراچی (92نیوز) ڈالرنے ایک بار پھر روپے کی درگت بنانا شروع کر دی۔ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر ایک سو چھ روپے سے تجاوز کر گیا۔ تفصیلات کے مطابق کرنسی مارکیٹ میں ڈالر نے روپے کے چھکے چھڑا دیئے‘ روپے کی ایک نہیں چل پائی۔ انٹر بینک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران ڈالر ایک سو چھ روپے دس پیسے تک چلا گیا۔ اب ڈالر ستر پیسے اضافے کے بعد ایک سو پانچ روپے نوے پیسے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ دو دن کے دوران ڈالر کی قدر میں ایک روپے پچپن پیسے کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کرنسی مارکیٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسی کی وجہ سے روپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ حال ہی میں آل پاکستان ٹیکسٹال ملز ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیاتھا کہ روپے کی قدرمیں فوری کمی کرکے سیکٹر کو سہارا دیا جائے جس کے بعد سے روپے کی قدر میں لگاتار کمی کا سلسلہ جاری ہے اورکرنسی مارکیٹ میں اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تین ماہ کے مختصر عرصے میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں چار فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت کرنسی مارکیٹ میں گھبراہٹ کی کیفیت ہے جس کی وجہ سے روپے پر دباو¿ بڑھتا چلا جا رہاہے اور اگر اس حوالے سے فورا اقدامات نہ اٹھائے گئے تو رواں سال کے اختتام تک ڈالر ایک سو دس روپے کا ہو جائے گا۔ انٹر بینک میں ڈالر کی قدر بڑھنے کا اثر اوپن مارکیٹ میں بھی پڑا اور ڈالر نوے پیسے کے اضافے کے بعد ایک سو چھ روپے دس پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا کہ موجودہ صورتحال میں بڑی ادئیگیوں کا دباو¿ آنے سے روپیہ مزید کمزور ہو سکتا ہے۔