Tuesday, October 4, 2022

چیف جسٹس کا کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی، ہر رکاوٹ گرانے کا حکم

چیف جسٹس کا کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی، ہر رکاوٹ گرانے کا حکم
کراچی (92 نیوز) کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے راستے میں کوئی رکاوٹ قبول نہیں، چیف جسٹس پاکستان نے 1995 کی سرکلر ریلوے بحال کرنے اور منصوبے کے راستے میں حائل ہر قسم کی رکاوٹ گرانے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ گرین اور اورنج لائن منصوبے بھی جاری رکھے جائیں۔ چیف جسٹس سماعت کے دوران کہا کہ لوگوں نے ابا کی زمین سمجھ کر تعمیرات کرلیں۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں ہونیوالے اجلاس میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ریلوے اور کمشنر کراچی سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے 1995 کی سرکلر ریلوے بحال کرنے اور تمام رکاوٹیں ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گرین لائن یا دیگر منصوبوں کیلئے انڈر پاسز اور فلائی اوورز بنائے جائیں اور سرکلرے ریلوے کی بحالی کیلئے تمام وسائل استعمال کیے جائیں۔ سپریم کورٹ نے کراچی کیلئے سی پیک منصوبہ بھی جاری رکھنے کا حکم دیا اور کہا کہ جہاں انڈر پاسز یا فلائی اوورز بنانا پڑیں، منصوبے ایک سال میں مکمل کریں۔ اس سے قبل سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا متاثرین کی آباد کاری کا کام حکومت نے کرنا ہے۔ عدالت نے سب کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کا حکم دیا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا لوگوں نے اپنے ابا کی زمین سمجھ کر عمارتیں بنادیں، اندازہ کریں کتنے ظالم لوگ ہیں، جن لوگوں نے غیرقانونی تعمیرات کیں انہیں اس کا علم ہوتا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا وکالت کے زمانے میں ریلوے زمین پر قابضین کا مقدمہ لینے سے انکار کیا اور ایسے لوگوں کو بھگا دیتے تھے۔