Saturday, November 26, 2022

چیف جسٹس پاکستان نے سانحہ کوئٹہ‘ فہدملک قتل کیس کا ازخود نوٹس لے لیا

چیف جسٹس پاکستان نے سانحہ کوئٹہ‘ فہدملک قتل کیس کا ازخود نوٹس لے لیا
اسلام آباد (92نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے سانحہ کوئٹہ پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان سے رپورٹ طلب کر لی جبکہ سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کے بھانجے بیرسٹر فہد ملک کے قتل کیس کا بھی ازخود نوٹس لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے 8 اگست کو کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعہ کا ازخودنوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب اور کوئٹہ کی سکیورٹی کے انتظامات کے حوالے سے تفصیلات مانگ لیں۔ انہوں نے ازخود نوٹس وکلا ءتنظیموں‘ بار ایسوسی ایشنز اور پاکستان بار کونسل کی استدعا پر لیا۔ یاد رہے کہ آٹھ اگست کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیلی۔ بلوچستان ہائیکورٹ بار کے صدر بلال کاسی کی ٹارگٹ کلنگ کے افسوسناک واقعے کے بعد وکلاءہسپتال میں جمع تھے کہ ایک خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا۔ دہشت گردی کے اس بدترین واقعہ میں 70 سے زائد جانیں چلی گئیں اور دو کیمرہ مین بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جاں بحق ہو گئے۔ کوئٹہ میں آج مسلسل چوبیسویں روز وکلاءنے عدالتوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ دریں اثنا چیف جسٹس نے سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کے بھانجے بیرسٹر فہد ملک کے قتل کیس کا بھی ازخود نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کو پولیس کی غفلت قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے اعلامیہ میں کہاہے کہ بیرسٹر فہدملک کے قتل کیس میں اسلام آباد پولیس کی غفلت نظر آتی ہے۔ واقعہ سے قبل اگر پولیس گاڑی میں رکھا اسلحہ چیک کرتی تو یہ واقعہ نہ ہوتا۔ جب فہد ملک اور راجا ارشد میں جھگڑا ہو رہا تھا تو پولیس کو دخل اندازی کرنا چاہئے تھی۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے غیرپیشہ ورانہ رویہ کے باعث ایک ملزم ضمانت لینے میں کامیاب ہوا۔ شہر میں بدانتظامی کے باعث لوگوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔