Monday, January 24, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

چیف جسٹس نےپی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس جمعرات تک مکمل ہونےکا عندیہ دیدیا

چیف جسٹس نےپی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس جمعرات تک مکمل ہونےکا عندیہ دیدیا
July 31, 2017

اسلام آباد(92نیوز)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریک انصاف پارٹی فنڈنگ کیس جمعرات تک مکمل ہونے کا عندیہ دیدیا۔۔کہتے ہیں دیکھنا ہے کیا ممنوعہ فنڈز لئے گئے؟؟ہر جماعت نے الیکشن کمیشن کو اپنا حساب دینا ہے۔ پی ٹی آئی وکیل نے کمیشن بنانے کی استدعا کردی۔ حنیف عباسی کے وکیل نے ججوں کو کافی اور شافی قرار دیدیا۔

تفصیلا تکےمطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں الیکشن کمیشن ممنوعہ فنڈز پر فیصلہ نہیں دے سکتا اس پر انور منصور نے کہا کہ جی بالکل پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 ءمیں پورا قانون تبدیل کر دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ رپورٹ کے بعد الیکشن کمیشن اکاؤنٹس نہیں دیکھ سکتا ۔ انور منصور بولے ان کا موقف ہے رپورٹ جمع کرانے کے بعد آڈٹ نہیں کرا سکتے۔ صرف ایک سیاسی جماعت کو نہ چنا جائےسیاسی جماعت کے نجی اکاﺅنٹس کی تشہیر نہیں کی جاسکتی۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ سیاسی جماعت کے اکاﺅنٹس نجی کیسے ہوسکتے ہیں۔ اپنے موقف سے خود کو الزام سے صاف کریں جسٹس عمر عطا بندیال کاکہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اکاؤنٹس کی جانچ کا حق حاصل ہے۔ انور منصور نے کمیشن بنانے کی بات کہی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ادارے کو چھوڑ کر کمیشن کیوں بنانا چاہتے ہیں۔ہر سیاسی جماعت نے حساب دینا ہے اور یہ حساب الیکشن کمیشن نے لینا ہےاگر عمران خان کا ڈکلیئریشن غلط نکلے اور عدالت معاملہ الیکشن کمیشن بھیجے تو تحریک انصاف کی قیادت کا موقف کیا ہوگا؟؟ دیکھنا ہے کہ کیا تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈز لئےاگر فنڈز ممنوعہ ہیں تو کارروائی کون کریگا۔ تحریک انصاف کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے غلط دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔ یہ دستاویزات انہوں نے خود تیار کیں پی ٹی آئی نے اصل فنڈز سے کم فنڈز ظاہر کیے اور کہا گیا ہے کہ حلال کو حرام سے الگ کردیا ہےحرام انتظامی طور پر خرچ کیا گیا اور حلال پاکستان بھیجنے کا موقف دیا گیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ حرام نہیں ممنوعہ کا لفظ ہےچیف جسٹس نے کہا کہ ان دستاویزات کو دیکھنے میں مہینے لگ جائیں گے۔ اکرم شیخ کاکہنا تھاکہ عقابی نظریں ایسی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دینگی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا جو بھی فنڈز ہیں وہ فارا کو اس کی معلومات دیتے تھے۔ اکرم شیخ کاکہنا تھا کہ قانون کے مطابق فارا کو تمام معلومات دینا ہوتی ہیں۔ ریکارڈ پرموجود ایک ایک نام کا جائزہ لیا وہ فارا ریکارڈ پر نہیں 50ڈالر سے زائد امداد دینے والے کا ریکارڈ فارا کی ویب سائٹ پر دینا لازمی ہوتا ہے۔ اس کیس میں تو 5ہزار ڈالر کریڈٹ کارڈ سے دیئے گئے عدالت نے انور منصورسے استفسار کیا تو انہوں نے بھی اکرم شیخ کی تائید کی۔ چیف جسٹس نے اس امید کا اظہار کیا کہ کیس جمعرات تک مکمل ہوجائیگا سماعت کل صبح 11بجے تک ملتوی کردی گئی۔۔