Friday, January 28, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی دیانتداری کی اعلیٰ مثال، خود کو احتساب کیلئے پیش کردیا

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی دیانتداری کی اعلیٰ مثال، خود کو احتساب کیلئے پیش کردیا
July 14, 2017

لاہور(92نیوز)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو احتساب کیلئے پیش کر دیا اور اپنے خاندان کے کاروبار کی تمام تفصیلات رضاکارانہ طور عوام کے سامنے پیش کرکے نئی قابل فخر روایت قائم کردی ہے۔

تفصیلات کےمطابق ایک طرف حکمران ہیں کہ اپنی لوٹی گئی دولت کاحساب دینے کوتیارنہیں ، تودوسری جانب چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ  نے اپنے اثاثے اور ذاتی معلومات پبلک کرکے قابل تحسین اور شاندارمثال قائم کردی ہے۔ جسٹس منصورعلی شاہ  کے فیکٹریوں کا مبینہ ڈائریکٹر ہونے کےمعاملے پررجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب انفارمیشن کمشنر کو خط لکھا ہے۔

 خط میں بتایاگیاہے چیف جسٹس منصور علی شاہ گیارہ نومبرانیس سوچوراسی کودوٹیکسٹائل ملز کے ڈائریکٹر تعینات کئے گئے

وہ اُس  وقت طالبعلم تھے،والد فیکٹریوں کا کاروبار سنبھالتے تھے، آج اورمنصور ٹیکسٹائلزتیئیس اکتوبرانیس سواٹھاسی کو ہائیکورٹ کے حکم پر سرکاری لیکویڈیٹرز کے حوالے کی گئیں۔ قانون کے تحت چیف جسٹس منصور علی شاہ تیئیس اکتوبرانیس سواٹھاسی  کے بعد کمپنیوں کے ڈائریکٹر نہیں رہے ، خط کے مطابق چیف جسٹس منصور علی شاہ کا خاندانی کاروبار سے رشتہ تیس سال پہلے ختم ہوچکا تھا۔  مذکورہ فیکٹریاں ہائیکورٹ کے حکم پرپندرہ  اپریل انیس سونوے کو تیسرے خریدار کے حوالے کردی گئیں ۔ خط میں لکھاگیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے نومئی دوہزارپانچ  کو مذکورہ فیکٹریاں تحلیل کر دیں، ایل ایل بی کے بعد چیف جسٹس دو اپریل انیس سونواسی کو ماتحت عدلیہ کے وکیل کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے،

اٹھارہ سال کی وکالت کے بعدپندرہ ستمبردوہزارنوکو ہائیکورٹ کے جج بنے۔ ہائیکورٹ کے جج کے طور پر چیف جسٹس نے نہ کبھی کاروبار کیا نہ قرضہ لیا۔ دوہزاربارہ 2میں چیف جسٹس کے صاحبزادے اسماعیل شاہ کو علاج کیلئے بیرون ملک جانا پڑا،

پنجاب حکومت کے میڈیکل بورڈ نے چونسٹھ لاکھ روپے کی سفارش کی علاج پرچوالیس لاکھ روپے خرچ ہوئے،بیس لاکھ روپے پھرخزانے میں جمع کرادیئے گئے۔

خط کے متن میں کہا کہا گیا ہے  پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹس ٹو انفارمیشن ایکٹ لاہور ہائیکورٹ پر لاگو نہیں ہوتا

چیف جسٹس منصورعلی شاہ رضا کارانہ طور پر اپنی ذاتی معلومات پبلک کررہے ہیں۔