Thursday, October 6, 2022

چیف جسٹس آف پاکستان نے شرجیل میمن کے ملاقاتیوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا

چیف جسٹس آف پاکستان نے شرجیل میمن کے ملاقاتیوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا
کراچی (92 نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان نے شرجیل میمن کے ملاقاتیوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اسپتال کی ایک ماہ کی سی سی ٹی فوٹیج کی مکمل تحقیقات کا حکم بھی دے دیا گیا۔ شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد ہونے کی خبر آئی اور جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ معاملہ یوں ہے کہ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کو آئی جی جیل خانہ جات نے اسپتالوں میں داخل وی آئی پی قیدیوں کے بارے میں بریفنگ دی تو شرجیل میمن ،انور مجید اور عبدالغنی مجید کا تذکرہ ہوا تو چیف جسٹس نے اسپتالوں کا دورہ کرنے کی ٹھان لی۔ چیف جسٹس ضیا الدین اسپتال پہنچے تو شرجیل میمن کو لگژری کمرے میں سوتا پایا۔ چیف جسٹس نے کہا لائٹس آن کرو شرجیل میمن کو اٹھاؤ۔ شرجیل میمن بغیر لاٹھی کے سہارے کالے رنگ کی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں باہر آ گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں ہوں چیف جسٹس آف پاکستان آپ کی خیریت جاننے کے لئے آیا ہوں۔ کیا یہ ہے آپ  کی سب جیل ، سب جیل اسے کہتے ہیں ، آپ تو مکمل صحت مند لگ رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ اسے یہاں سے فوری جیل منتقل کریں۔ شراب کی بوتلیں دیکھنے کے بعد چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ یہ کیا ہیں ؟ جس کے جواب میں شرجیل میمن نے کہا کہ یہ میر ی نہیں۔ سپریم کورٹ کے عملے نے ایک بوتل سونگھ کر چیک کی تو اس میں سے شراب کی بو آ رہی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چیف سیکرٹری کو بلائیں دیکھیں یہاں کیا ہو رہا ہے۔ کہانی میں پھر موڑ آیا جب چیف جسٹس نے مزید تحقیقات کے لئے عدالتی عملے کو دوبارہ اسپتال بھیجا۔ عملے نے رپورٹ دی سر پہلے تو شرجیل میمن کے کمرے تک جانے کے لئے مزاحمت کا سامنا کرنا پرا اور جب پہنچے تو شرجیل میمن کمرے سے باہر نکل رہے تھے اور عملے سے کہا کہ میں نے شراب نہیں پی میڈیکل کروا لیں۔ ذرائع کے مطابق عدالتی عملے کے آنے سے پہلے کمرے سے بوتلیں اور دیگر اشیا غائب کر دی گئی ۔ عملے نے کمرے کی ویڈیو بنائی۔ بعد میں چیف جسٹس نے یہ جاننے کے لئے کہ شرجیل میمن سے کون ملا کون آیا اور کون گیا ۔ شرجیل میمن کے ملاقاتیوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ اس کے علاوہ ضیا الدین اسپتال کی ایک ماہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج  کو بھی اس تحقیقات کا حصہ بنایا جائے جبکہ چیف جسٹس نے ضیا الدین اسپتال کے متعلقہ ریکارڈ کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا۔ شرجیل میمن تو بضد ہیں کہ بوتل میں شہد اور زیتوں کا تیل تھا تاہم رپورٹ آتے ہی حقیقت بھی سامنے آ جائے گی مگر یہ ساتھ منٹ کی گفتگو شرجیل میمن کو شاید پوری زندگی یاد رہے گی۔