Sunday, October 2, 2022

چیئرمین کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ، نئی حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پھر موخر

چیئرمین کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ، نئی حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پھر موخر

اسلام آباد ( 92 نیوز ) سینٹ کا اجلاس چیئرمین میاں رضا ربانی کی زیرصدارت ہوا ۔ ایوان میں نئی حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم ایک بار پھر موخر کردی گئی ۔ ایوان میں حکومتی بنچوں پر 27 سینیٹرز جبکہ اپوزیشن کے 8 ارکان موجودتھے جبکہ آئینی ترمیم کے لئے 69 ووٹ درکار تھے ۔
نئی حلقہ بندیوں کے معاملے پر ایوان کا ماحول اس وقت انتہائی کشیدہ ہوگیا جب سینیٹر حافظ حمد اللہ نے بلا اجازت اور بغیر مائیک کے بولنا شروع کردیا ۔ چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ وہ ایوان کو اس طرح یرغمال نہیں بناسکتے۔


سینٹر حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ یہ ایوان ایک یا دو پارٹیوں کا نہیں ہے ۔ نئی حلقہ بندیوں پرجو سودے بازی ہو رہی ہے وہ بے نقاب کریں گے ۔ ہم بھیڑ بکریاں نہیں، جاننا چاہتے ہیں کہ اندر کیا پک رہا ہے۔ اس دوران حافظ حمداللہ نے ایجنڈا کی کاپی پھاڑڈالی اور ایوان سےواک آئوٹ کرگئے۔
چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے ریمارکس میں کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور لیڈر آف ہائوس آئینی ترمیم کا مسئلہ حل کریں ۔ پہلے بھی بلا امتیاز احتساب کے معاملے پر ٹرین مس کر چکے ۔ ایسا نہ ہو کہ بروقت الیکشن کے حوالے سے بھی یہی ہو ۔
اپوزیشن لیڈراعتزاز احسن نے کہا کہ کچھ دنوں میں کسی انڈراسٹینڈنگ تک پہنچ جائیں گے ۔ قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے بھی اعتزاز احسن کی تائید کی۔