Sunday, September 25, 2022

نیب ترمیمی آرڈیننس 2020 کا مسودہ تیار

نیب ترمیمی آرڈیننس 2020 کا مسودہ تیار
 اسلام آباد (92 نیوز)  نیب ترمیمی آرڈیننس 2020 کا مسودہ تیار ہو گیا۔ مسودہ کے مطابق ملزمان کو 90 دن حراست میں رکھنے اور کسی مقام کو سب جیل قرار دینے کا اختیار بھی ختم کر دیا گیا۔ ریفرنس دائر ہونے کے بعد عدالت ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کر سکے گی۔ عدم حاضری پر عدالت وارنٹ گرفتاری جاری کر سکے گی۔ پچاس کروڑ سے کم کی کرپشن پر نیب کارروائی نہیں کر سکے گا۔ اس سے پہلے نیب دس کروڑ یا اس سے زائد کی کرپشن پر کارروائی کر سکتا تھا۔ نیب پانچ سال سے زائد پرانے کھاتے نہیں کھول سکے گا۔ عوامی عہدیداروں کیخلاف کارروائی کیلئے مالی فوائد کے شواہد لازمی قرار دیئے گئے جبکہ اخراجات کیلئے کسی کی مدد لینے والا زیر کفالت تصور ہو گا۔ مسودے میں بتایا گیا ہے کہ نیب کسی ملزم کیخلاف ضمنی ریفرنس دائر نہیں کر سکے گا۔ کرپشن کے ملزمان دوران تفتیش وکیل کو بھی ساتھ لیجا سکیں گے۔ نیب کسی گمنام شکایت پر کارروائی نہیں کر سکے گا۔ منتخب نمائندوں کا ٹرائل اسی صوبے میں ہوگا جہاں سے وہ الیکشن جیتے۔ کرپٹ افراد کو سزا کے بعد بھی پلی بارگین کا حق مل گیا۔ رضاکارانہ رقم واپسی پر پانچ سال کی نااہلی کا سامنا کرنا ہو گا۔ مسودے کے مطابق ریفرنس دائر ہونے تک نیب حکام کسی ملزم کیخلاف کوئی بیان جاری نہیں کر سکتے۔ اگر کسی افسر نے میڈیا پر بیان دیا تو ایک سال تک قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہو گا۔ آرڈیننس کا اطلاق تمام زیرالتواء مقدمات پر بھی ہو گا۔