Thursday, October 6, 2022

چیئرمین نیب اپنے افسران کیخلاف ایکشن لیں ، بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین نیب اپنے افسران کیخلاف ایکشن لیں ، بلاول بھٹو زرداری
کراچی (92 نیوز) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا چیئرمین نیب اپنے افسران کیخلاف ایکشن لیں ورنہ ہم ایکشن لیں گے۔ ایسے انصاف ہو سکتا ہے نہ نظام چل سکتا ہے۔ اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری پر بلاول بھٹو زرداری کے حکومت اور مخالفین پر تابڑ توڑ حملے ہوئے اور اپنے خلاف مقدمات سیاسی حربہ قرار دے دیا۔ کراچی میں نیوز کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری کا جارحانہ انداز سامنے آیا۔ بولے 6 ماہ سے ہماری کردار کشی کی گئی، مشرف کے بنائے ادارے نے اسپیکر سندھ اسمبلی کو اسلام آباد سے گرفتار کیا۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا جس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ چیئرمین نیب نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ایکشن نہیں لیا۔ پیپلزپارٹی کے خلاف مقدمات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس کیس میں دھکیلا جا رہا ہے۔ سندھ کے کیس کہیں اور منتقل کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ کیوں اتنا شوق ہے کہ ہمارا ٹرائل پنڈی میں ہو۔ ایک رات آپ کسی کو بے گناہ قرار دیتے ہو اور تحریری حکم میں پھانسی لگا دیتے ہو۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے نیب پر کڑی تنقید کی اور کہا پاکستان میں سب کے لیے ایک قانون نہیں ہے۔ نیب کو ختم نہ کرنا ہماری ناکامی ہے۔ حکومت پر مزید اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کالعدم تنظیموں کے خلاف بھی کھل کر بولے اور کہا آپ زرداری کو ایک فون پر سزا سنا سکتے ہو، کالعدم تنظیموں کے خلاف کیس نہیں چلتے، ان کے پاس اثاثے کہاں سے آتے ہیں، اس پر جے آئی ٹی بٹھائیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور بولے کالعدم تنظیموں کے لیے این آر او کا کیا پیغام دے رہے ہیں۔ تین وزرا کے کالعدم تنظیموں سے رابطے ہیں۔ ان کو برطرف کیا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اٹھارویں ترمیم پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ جمہوریت کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اپنے صوبے کے خلاف بھی کوئی بات نہیں سنیں گے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے پارلیمنٹ کی مشترکہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔