Sunday, September 25, 2022

چیئرمین سینیٹ کی زیر صدارت اِن کیمرہ اجلاس، آرمی چیف کی بریفنگ

چیئرمین سینیٹ کی زیر صدارت اِن کیمرہ اجلاس، آرمی چیف کی بریفنگ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ارکان سینیٹ کو اپنے غیر ملکی دوروں ،علاقائی صورتحال اور 41 ملکی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے ان کیمرہ تفصیلی بریفنگ دی ۔ اجلاس چار گھنٹے تک جاری رہا ۔
ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے 41 ملکی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت پر اعتماد میں لیا اور کہا کہ یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں اور نہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان لڑائی ہو گی ۔
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے واضح کہا کہ پارلیمنٹ دفاع اور خارجہ پالیسی بنائے پاک فوج عملدرآمد کرے گی ۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے ٹیلی ویژن پر تبصرہ کرنے والے سابق آرمی آفیسرز کے حوالے سے کہا کہ جو لوگ ٹی وی پر تبصرے کر رہے ہیں وہ پاک فوج کے ترجمان نہیں ہیں ۔
سپہ سالار کی ایک گھنٹے کی بریفنگ کے بعد سوال و جواب کا آغاز ہوا جو تین گھنٹے پر محیط تھا ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہر سوال کا جواب دیا ۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو بتایا کہ آرمی چیف نے سینیٹ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا ۔
اس سے پہلے جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینیٹ جنرل نوید مختار ،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور ڈی جی آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا کے ہمراہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایوان بالا پہنچے تو ڈپٹی چیئر مین سینیٹ مولانا غفور حیدری نے اُن کا استقبال کیا ۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اجلاس سے پہلے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی سے ملاقات بھی کی ۔ ارکان ایوان بالا نے آرمی چیف کے سینیٹ میں آنے کو خوش آئند کہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افوج پاکستان کے کردار اور قربانیوں کو سراہا ۔