Monday, October 3, 2022

چیئرمین سینیٹ اور مولانا عبدالغفور حیدری کی ملاقات، آزادی مارچ کے خاتمے سے متعلق معاہدے پر غور

چیئرمین سینیٹ اور مولانا عبدالغفور حیدری کی ملاقات، آزادی مارچ کے خاتمے سے متعلق معاہدے پر غور
 اسلام آباد (92 نیوز) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور مولانا عبدالغفور حیدری کی خفیہ ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں آزادی مارچ اور دھرنے کے خاتمے سے متعلق مجوزہ معاہدے کی شقوں پر غورکیا گیا۔ اسلام آباد میں چار روز سے جاری اپوزیشن کا دھرنا اور آزادی مارچ اختتام کی طرف بڑھنے لگا۔ چودھری برادران کی انٹری اور مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقاتوں کے بعد صورتحال نارمل ہونے لگی ہے ۔ نائنٹی ٹو نیوز اپوزیشن کے مطالبات اور ان کے حل کیلئے پیش کیے گئے حکومتی مؤقف کی تفصیلات سامنے لے آیا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن میں مجوزہ معاہدے کی شقوں پر غور ہونے لگا ہے ۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور مولانا عبدالغفور حیدری کی خفیہ ملاقات   برف پگھلنے کا باعث بنی ۔ صادق سنجرانی نے حکومتی کمیٹی کو مولانا عبدالغفور حیدری سے ہونیوالی ملاقات اور تجاویز سے آگاہ کر دیا تھا ۔ اس خفیہ ملاقات کی تجاویز کی روشنی میں مذاکراتی کمیٹیاں آگے بڑھ رہی ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے استعفے کے مطالبے پر حکومت نے جواب دیا کہ وزیر اعظم الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کے بغیر استعفیٰ کیسے دیں۔؟حکومت نے پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات سے مقررہ وقت میں تحقیقات کرانے کی پیش کش کر دی۔ حکومتی کمیٹی نے کہا منظم دھاندلی ثابت ہوجائے تو وزیر اعظم استعفی دے دیں گے۔ اپوزیشن کا دوسرا مطالبہ نئے انتخابات کرانے کا تھا جس پر حکومت نے جواب دیا کہ پارلیمانی کمیٹی میں منظم دھاندلی ثابت ہو جائے تو نئے انتخابات کرا دیئے جائیں گے۔ اپوزیشن نے تیسرا مطالبہ کیا کہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوجی تعینات نہ کئے جائیں جس پر حکومت نےجواب دیا کہ انتخابی اصلاحات ایکٹ میں سب جماعتیں اتفاق کرکے  ترمیم لے آئیں۔ اپوزیشن نے چوتھا مطالبہ اسلامی دفعات کے تحفظ کا کیا جس پر حکومت نے جواب دیا کہ اسلامی دفعات کو پہلے سے آئینی تحفظ حاصل ہے ، مزید جس طرح کیا جاسکتا ہے اپوزیشن تجاویز دیدی۔ حکومتی کمیٹی کے رکن چودھری پرویز الہٰی نے بھی معاملات جلد بہتر ہونے کی امید کا اظہار کیا۔ ایک وفاقی وزیر نے نائنٹی ٹو نیوز کو بتایا کہ جے یو آئی  پہلے وزیر اعظم کا استعفیٰ مانگ رہی تھی اب فیس سیونگ کے لئے پارلیمانی کمیٹی  یا جوڈیشل کمیشن سے تحقیقات مانگ رہی۔ حکومت جے یو آئی کو فیس سیونگ دینے جارہی ہے۔