Saturday, December 3, 2022

چاہتے ہیں ایک ہفتے کے اندر کورونا ٹیسٹ کی مفت سہولت موجود ہو ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

چاہتے ہیں ایک ہفتے کے اندر کورونا ٹیسٹ کی مفت سہولت موجود ہو ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ
لاہور (92 نیوز) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا چاہتے ہیں ایک ہفتے کے اندر کورونا ٹیسٹ کی مفت سہولت موجود ہو۔ لاہورہائیکورٹ نے قرنطینہ سنٹرز میں دی جانے والی سہولیات کے حوالے سے تفصیلات طلب کر لیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جہاں قرنطینہ بنائے گئے ہیں وہاں اردگرد کے لوگوں کیلئے کیا حفاظتی اقدامات کیے ہیں؟جیل میں قیدیوں کی طبی سہولیات بارے بھی بتایا جائے۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ قیدیوں کے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے شیشے لگائے جا سکتے ہیں۔ جس لحاظ سے امداد مل رہی ہے اس سے قیدیوں کو سہولت دی جا سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہماری عدالتوں کیلئے آپ کیا کررہے ہیں؟ہم ہائیکورٹ کو تو محدود کر سکتے ہیں ، وکلا سے بھی درخواست کی۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ ہم عدالتوں میں وکلا، سائلین کیلئے ایس او پی مرتب کرتے ہیں، رجسٹرار آفس سے میٹنگ کرکے سہولتیں فراہم کرتے ہیں،ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم ایمرجنسی میں ہیں، آگاہی کو پبلک میں عام کریں ، عوام صرف ناقد نہیں، کہیں نہ کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے ہدیات کی کہ اپنے ملازمین کی تربیت کریں تاکہ ایس او پی پر عملدرآمد ہو۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو آن بورڈ لیں، آگاہی مہم کو پبلک سروس میسیج کے طور پر چلائیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کتنا فنڈز صوبائی حکومت کو دے رہی ہے؟ چاہتے ہیں کہ ایک ہفتے کے اندر کورونا ٹیسٹ کی مفت سہولت موجود ہو۔ عدالت نے کیس کی سماعت چوبیس مارچ تک ملتوی کر دی۔