Wednesday, September 28, 2022

چار سال میں 24 ارب روپے کی اسکالر شپس دی جائینگی ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر

چار سال میں 24 ارب روپے کی اسکالر شپس دی جائینگی ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر
اسلام آباد ( 92 نیوز) تخفیف غربت و سماجی تحفظ کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس انڈر گریجویٹ اسکالر شپ پروگرام سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چار سال میں 24 ارب روپے کی اسکالر شپس دی جائینگی۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ یہ سکالر شپس 50 فیصد خواتین کے لیے مختص کی گئی ہیں دو فیصد خصوصی افراد کو  دی جائیں گی ،میرٹ کو مدنظر رکھا جائے گا،  پروگرام ملک کی تمام سرکاری جامعات میں زیرتعلیم طلبہ کے لیے ہوگا،پرائیویٹ سیکٹر کے لیے اسکالرشپس کو کھولنا ابھی سوالیہ نشان ہے، اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ میں پرائیویٹ سیکٹر کے لیے اسکالرشپس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ  پچھلے سال 4 نومبر کو اسکالر شپ کا اجرا ہوا تھا ، پاکستان میں پہلی مرتبہ یہ تاریخی اسکالر شپس دی جائیگی ،  اس سکیم کے تحت چار سال میں دو لاکھ طلبا کو ضرورت اور میرٹ کے مطابق سکالر شپس دی  جائیگی ، 24 بلین کے اس پراجیکٹ میں ہر سال پچاس ہزار سکالر شپس دی  جائیگی ۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ  اگلے سال کا پراسیس جون میں شروع ہوگا،ہم  اس حوالے سے اشتہارات بھی شائع کریں گے،ہمیں یہ سکیم منظور ہونے کی بہت خوشی ہے، گزشتہ  تین ماہ کی کاوش سے پہلے سال کی اسکالرشپس کا پراسیس پایہ تکمیل تک پہنچ رہا ہے،ایچ ای سی نے میرٹ پر طلبہ کی نشاندہی کی ہے، بہت سی یونیورسٹیز نے پراسیس مکمل کرلیا ، کچھ میں پراسیس چل رہا ہے، جن کا پراسیس مکمل ہوچکا انہیں وزیراعظم آج اسکالرشپس دیں گے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ  4نومبر کو اعلان کے بعد ایچ ای سی کا پورٹل کھول دیا گیا تھا، آخری تاریخ 10دسمبر سے بڑھا کر24دسمبر کردی گئی تھی،ایک لاکھ 32ہزار 192درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ  خاندان کی 45ہزار سے کم آمدن ہونے پر طالب علم حق دار تصور ہوگا، پوری ٹیوشن فیس اور چار ہزار ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا، اسکالرشپس کا اطلاق چاروں صوبوں میں موجود یونیورسٹیز پر ہوتا ہے ۔