Thursday, September 29, 2022

چارسدہ: سکھ مہاراجہ سردار شیر سنگھ کے دور میں 100سال ”قید“ کی سزا پانے والے دروازے کو 175سال بعد بھی رہائی نہ مل سکی

چارسدہ: سکھ مہاراجہ سردار شیر سنگھ کے دور میں 100سال ”قید“ کی سزا پانے والے دروازے کو 175سال بعد بھی رہائی نہ مل سکی
پشاور (92نیوز) غداری کے مرتکب انسانوں کو سزا کی داستانیں تو آپ نے سنی ہوں گی لیکن کسی دروازے کو 100سال قید کی سزا کی داستان شاید آپ کو بھی حیران کردے۔ عقل و شعور رکھنے والے کو سزا دینا تو عام سی بات ہے مگر بے جان چیز کوسزا دینا نہ صرف عجیب بلکہ حیران کن بھی ہے۔ ایسا ہی کچھ اس دروازے کے ساتھ ہوا۔ 1840ءمیں مہمند قبائل کے لشکر نے چارسدہ شبقدر میں واقع قلعہ پرحملہ کیا۔ قبائلی جنگجووں نے مرکزی دروازہ توڑ کر قلعے میں موجود سپاہیوں کو قتل کر دیا۔ d1   حملہ کے بعد اس وقت کے سکھ مہاراجہ سردار شیر سنگھ نے فرانسیسی جرنل جیک وینٹورا کی سربراہی میں عدالت لگائی۔ عدالت نے 2 دن کی کارروائی کے بعد دروازے کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے اسے 100 سال کی سزا سنائی۔ اس وقت سے یہ دروازہ زنجیروں میں جکڑا ہواہے۔ دروازے کو سزا سنانے والی عدالت کا خیال تھا کہ اگر یہ دروازہ مضبوط ہوتا تو سکھ حکمرانوں کو اتنا بڑا جانی نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔ آئندہ کوئی ایسا کمزور دروازہ نہ بنا سکے شاید اسی لئے اس دروازے کو اتنی بڑی سزا دی گئی۔ d3   اس بےچارے دروازے کو توسزا مل گئی لیکن اسے بنانے والے کا کیا حشر ہوا اس کا تاریخ میں کہیں ذکر نہیں۔ 1940ءمیں ایک انگریز افسر نے اس کا تالہ کھول دیا لیکن رہائی شاید اس کا مقدر نہیں۔اس دروازے نے 100 سال قید کی سزا تو پوری کردی ہے مگر تاریخ کو زندہ رکھنے کےلئے اسے اب بھی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔