Wednesday, September 28, 2022

پی آئی اے کو مجموعی طور پر 360 ارب کا نقصان پہنچا ، خصوصی آڈٹ رپورٹ

پی آئی اے کو مجموعی طور پر 360 ارب کا نقصان پہنچا ، خصوصی آڈٹ رپورٹ
اسلام آباد (92 نیوز) قومی ائیر لائن کی دس سالہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کو مجموعی طور پر 360 ارب کا نقصان ہوا۔ خصوصی آڈٹ رپورٹ کے مطابق 457 ملازمین و افسران جعلی ڈگریوں کے حامل نکلے۔ پی آئی اے کو کبھی کاروباری ادارہ سمجھ کر چلایا ہی نہیں گیا۔ پی آئی اے میں 16 پائلٹس، 33 ایئرہوسٹس کے پاس جعلی ڈگریاں ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔ رپورٹ کے مطابق جعلی ڈگریوں پر 52 انجینئرز ، 67 باکمال افسران بھرتی کیے گئے۔ من پسند اور نان پروفیشنل افراد کی بیرون ممالک اور اعلی عہدوں پر تعیناتی اور غیرضروری بھرتیاں نقصان کی اہم وجہ قرار دی گئی۔ غلط کمرشل فیصلوں کے باعث ادارے کو ساڑھے اٹھ ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گراونڈ ہینڈلنگ سروس آئوٹ سورس کرنے سے پی آئی اے کو 117 ارب ، سائبر نامی سافٹ ویئر کی خریداری سے ساڑھے پانچ ارب ،  غیرضروری سپیرپارٹس کی خریداری سے ڈیڑھ ارب ، جہازوں کی غیرضروری مرمت کے باعث 31 ارب کا نقصان اٹھانا پڑا۔ جہازوں کی تعداد 34 سے کم ہو کر 12 رہ گئی۔ عالمی مارکیٹ میں حصص 41 سے 22 فیصد ، مقامی مارکیٹ میں حصص 13 فیصد کم ہو گئے۔ آڈٹ حکام نے قومی ایئرلائن میں حکومت کی غیر ضروری مداخلت روکنے اور ایوی ایشن پالیسی پر نظرثانی کی سفارش کر دی۔ رپورٹ میں قرار دیا کہ ترکش اورگلف ایئرلائنز کیساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی بھی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں قومی ائیرلائن میں بھرتیوں کیلئے تجربہ کار افراد پر مشتمل بورڈ تشکیل دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔