Thursday, December 8, 2022

پیپلز پاورٹی ریڈیکشن پروگرام، غربت میں کمی کیلئے سندھ گورنمنٹ کے اقدامات قابلِ تعریف ہیں!

پیپلز پاورٹی ریڈیکشن پروگرام، غربت میں کمی کیلئے سندھ گورنمنٹ کے اقدامات قابلِ تعریف ہیں!

ٹھٹھہ (اسٹاف رپورٹر) سندھ گورنمنٹ کا پیپلز پاورٹی ریڈیکشن پروگرام غربت میں کمی لانے کے حوالے سے نمایاں اہمیت کا حامل ہے ۔صوبہ سندھ کے چھ(6 ) اضلاع ٹھٹھہ، بدین ، میرپورخاص ، عمرکوٹ، سانگھڑ اور خیرپور میں جاری یہ پروگرام پسماندہ عوام کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ۔

سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (سرسو)کے تحت عمل میں لائے جانے والے اس پروگرام کے تحت غریب گھرانوں کو امدادی رقوم، انکم جنریشن گرانٹ  کی صورت میں اور بلا سود قرضوں کی فراہمی، کمیونٹی انویسٹمنٹ فنڈ کے ذریعےکی جارہی ہیں ، تاکہ وہ ازخود اپنے ”پیروں“ پر کھڑے ہونے کے قابل بن سکیں اور آمدنی کے بہتر زریعوں کو اپنا کر اپنی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلیاں لاسکیں ۔

 لو کاسٹ ہاوسنگ اسکیم  کے تحت نادار افراد کو رقوم کی فراہمی گھروں کی تعمیر میں معاونت فراہم کر رہی ہے ۔

 ہنرمندی ، حوصلے ، ارادے اور جذبے یکجا ہو جائیں تو کیا ممکن نہیں!! بزنس ڈیولپمنٹ گروپس کی تشکیل اور ان گروپس کو رقوم کی فراہمی مجموعی طور پر خوشحالی لانے کا سبب بن رہی ہے۔

 نوجوانوں کے وکیشنل ٹریننگ پروگرام  کے زریعے ہنرمندانہ تربیت کے بھرپور مواقعوں کی دستیابی بے روزگاری کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے ۔

پیپلز پاورٹی ریڈیکشن پروگرام کے تحت بنائے جانےوالی کمیونٹی آرگنائزیشن(سی او)، ویلیج آرگنائزیشن (وی او) اور لوکل سپورٹ گروپ (ایل ایس او) کمیونٹیز کو متحر ک اور فعال بنانے اور پروگرام کے تحت انجام دی جانے والی تمام سرگرمیوں میں نمایاںکردار ادا کر رہی ہیں ۔

نوجوانوں کو ووکیشنل ٹریننگز کی فراہمی معیاری روزگار کے حصول اور آمدنی میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں:

صوبہ سندھ کے چھ  (6 ) اضلاع میں ، باہمت اور حوصلہ مند نوجوانوں کو ووکیشنل ٹریننگ کی فراہمی پیپلز پاورٹی ریڈیکشن پروگرام کاایک اہم حصہ ہے ۔ ٹھٹھہ کے گاؤں عبداللہ ٹویو کے نوجوانوں کو کشتی سازی کی تربیت اسکی ایک زبرددست مثال ہے۔ کینجھر جھیل کے نزدیک آباد اس گاؤں میں قائم ویلیج آرگنائزیشن کے ذریعے اُن 15 محنت کش نوجوانوں کو ٹریننگ کے لیے نامزد کیا گیا جو پہلے بے روزگار تھے یا پھر محدود / وقتی روزگار اور انتہائی قلیل آمدن کے تحت بمشکل تمام اپنا گزر،بسر کررہے تھے ۔ٹریننگ کے لیے نامزد ہوجانے کے بعد انہی 15 افراد کی جانب سے ٹریننگ فراہم کی جانے والی جگہ کا تعین بھی کیا گیا ۔ ان دو بنیادی امور کی تکمیل کے بعد سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کی جانب سے ایک ٹرینر  کا انتظام کیا گیا ۔

 تیس دنوں پر مبنی کشتی سازی کی اس ٹریننگ میں شریک نوجوانوں کو فی کس چھ ہزار روپے ٹی اے ڈی اے  کی مد میں فراہم کیے گئے ۔مزید برآں ٹریننگ کی جگہ کا کرایہ اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کی فراہمی کو بھی سرسو کی طرف سے ہی ممکن بنایا گیاتھا ۔

 یہ ٹریننگ حاصل کرنےوالے نوجونوں کا شوق اورجذبہ ہی تھا کہ تیس دنوں میں نہ صرف اس تربیتی پروگرام سے پوری طرح استفادہ حاصل کیا گیا بلکہ ایک مضبوط اور معیاری کشتی بھی بنا لی گئی خوبصورت جھیل کے قریب رہنے والے یہ نوجوان اب بہت خوش ہیں اور خدا کے بعد حکومت سندھ کے شکر گزار بھی۔ ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اب ہم اس قابل ہوں چکے ہیں کہ نہ صرف بہترین کشتیاں بنا سکیں گے بلکہ کشتی کو آمدنی کا زریعہ بنا کر ، روشن اور کامیاب مستقبل کے لیے دیکھے گئے اپنے خوابوں کو سچ کر سکیں گے ۔

ڈسٹرکٹ منیجر  سر سو  احمد خان سومرو کا کامیاب ٹریننگ کے بعد کیے جانےوالے کامو ں پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا ٹریننگ اور اس کے نتیجے میں بننے والی کشتی، کامیابی کے سفر پر بڑھایا جانے والا پہلا قدم ہے ۔ ہنرمند نوجوانوں اور اُنکے پسماندہ گھرانوں کو منزل پر پہنچا نا ہمارا مقصد ہے ۔ ۔ ’ ’اب پانچ ( 5)گھرانوں پر مشتمل بزنس ڈیولپمنٹ گروپ تشکیل دیا جائے گا ،پھر ڈھائی لاکھ روپے اس گروپ کو فراہم کیے جائیں گے ، تیار کی جانے والی کشتی بھی اس گروپ کی ملکیت ہوجائے گی، بزنس گروپ یہ کشتی فشنگ کے لیے استعمال کر سکے گا اس کے لیے انہیں جال اور آئس باکس بھی مہیا کیے جائیں گے ۔ “ احمد خان کے لہجے سے جھلکتا عزم اُنکی آرگنائزیشن کی مخلصانہ کاوشوں کا شاہد تھا!۔

خواتین کو سلائی ،کڑھائی کی تربیت ، دیہی عورتوں کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کا عزم !

ٹھٹھہ ہی کے گاؤں دریاخان جت میں فراہم کی جانے والی سلائی کڑھائی کی تربیت نے نہ صرف پسماندگی کا شکار خواتین کوہنرمند بنا یا بلکہ انکی خوداعتمادی کو بھی جلاِ بخشی ۔ ٹریننگ میں شامل بیس (20) خواتین کا عزم وحوصلہ ، ارادے ، شوق و جذ بہ قابلِ دید تھا ۔ سب سے پہلے عاصیہ نے بات شروع کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی زندگی میں بہت کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے اردگرد کا فرسودہ ماحول ہما ری پستی کا سبب بنا ہوا ہے ، پیپلز پاورٹی ریڈیکشن پروگرام کا ہمارے گاؤں میں آنا ، گھُپ اندھیروں میں جلتے کسی چراغ کی مانندہے۔

زاہدہ نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اسطرح کیا، دیہی خواتین کو معاشی طور پر مستحکم بناتا یہ پروگرام کسی نعمت سے کم نہیں ، ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد ہم ایک سوٹ کی سلائی کے عوض 400سے 500روپے کمانے کے قابل بن چکے ہیں، ٹی اے ڈی اے  کی رقم سے اب ہم اپنی سلائی مشین خریدیں گے اوربھرپورمحنت سے اپنے مالی مسائل کافی حدتک کم کرسکیں گے ، سندھ گورنمنٹ اور سرسو کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے “ ۔

  موقع پر موجود شریفاں بی بی، جنکا تعلق گاؤں دریا خان جت ، تعلقہ گھوڑا باڑی کی یو ،سی اداسی سے ہے اور جو پہلے ہی یہ ٹریننگ حاصل کر چکی ہیں ، نے بتایا کہ پہلے چھوٹے ،موٹے کام کرکے بمشکل تمام تین سے چار ہزار روپے مہینہ آمدن ہوتی تھی ،لیکن پھر میں نے سندھ گورنمنٹ کے پیپلز پاورٹی ریڈیکشن پروگرام کے تحت تیس دنوں پر مبنی سلائی کی ٹریننگ حاصل کی ، ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد میں نے ایک سلائی مشین خریدی اور سوٹ تیار کرنا شروع کیے ، یہ میری بھرپور محنت اورلگن کا ثمرتھاکہ شروعات میں ہی مجھے ماہانہ 15000کی آمدنی ہونے لگی تھی ، کچھ عرصے بعدپیسے جمع کرکے میں نے ایک اور مشین خرید لی اور ایک ہنر مند عورت کو بھی اپنے ساتھ کام میں شامل کرلیا جس سے آمدنی میں مزید اضافہ ہوگیا ۔میرے حالات ِزندگی بدلنا شروع ہو گئے تھے ، اب میرے بچے ا سکول جانے لگے ہیں ،پہلے گھر میں اندھیروں کا راج تھا لیکن اب چھو ٹا سولر پینل اور بیٹری لگا لی گئی ہے جس سے گھر جگمگا اٹھا ہے ، بچے اب شام کو گھر میں دیر تک آرام سے پڑھتے رہتے ہیں ، پہلے ہمارا دال ، سبزی پر ہی گزارا تھا لیکن اب گوشت بھی بننے لگا ہے اور پھل فروٹ بھی آجاتے ہیں ، ہمارا ارادہ ہے کہ اب گھر میں لیٹرین بنایا جائے تاکہ رفع حاجت کے لیے باہر کھلے میں نہ جانا پڑے ، اور صفائی ستھرائی کے طریقوں کو اپنا کر صحتمندانہ زندگی گزاری جائے ، سرسو کی جانب سے بنایا جانے والا بہترین تنظیمی سرکل جس میں محلے کی سطح پر بنائی جانے والی کمیونٹی آرگنائزیشن،پورے گاؤں کے لیے ویلیج آرگنائزیشن اور یونین کاؤنسل کی سطح پر لوکل سپورٹ گروپس شامل ہیں، اپنی مثال آپ ہے، یہ تنظیمی گروپس ہمیں آپس میں جوڑے ہوئے ہیں ، باہمی مشاورت اور فیصلہ سازی کا عمل مسائل میں کمی لارہا ہے ، ہماری خوداعتمادی میں اضافہ ہوا ہے ، کرونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے ان تنظیموں نے آگاہی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جسکا فائدہ گاؤں کے ہر گھر کو پہنچا ہے۔یہ تمام تر تبدیلیاں سندھ گورنمنٹ کی مدد کی وجہ سے رونما ہوئی ہیں ۔

موبائل رئپیرنگ ٹریننگ ،نوجوان بنے ہنرمند ، کھلے بہتر روزگار کے دروازے!

ٹھٹھہ کے گاؤں ابراہیم جت میں15 نوجوان لڑکوں پر مشتمل گروپ نے موبائل رئپیرنگ ٹریننگ حاصل کرکے اپنے آپ کو اس قابل بنا لیا ہے کہ وہ اب اپنے لیے کامیاب روزگار کے مواقعوں کا حصول ممکن بنا سکیں ، گروپ میں شامل لڑکوں نے مجموعی طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہم محنت مزدوری کے سلسلے میں دربدر گھومتے پھرتے رہتے تھے ، کبھی کوئی کام مل جاتا تھا تو کبھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، ہم مایوس تھے اور دلبرداشتہ بھی، لیکن پھر ہمیں سندھ گورنمنٹ کے پروگرام کی بابت ہمیں یہ ٹریننگ دی گئی جسے ہم نے بہت محنت اور ذوق وشوق سے مکمل کیا ،ہمیں 4500 بھی ’ ’ ٹی اے، ڈی اے “کے عوض ملے ہیں ۔

اب ہم مطمئن ہیں ، ہم ہنر مند بن چکے ہیں ،ہمارے گاؤں میں بہت سے لوگوں کے پاس موبائل ہیں لیکن موبائل رئپیرنگ کی دکان صرف ایک ہی ہے، ہمارا ارادہ ہے کہ اب ہم موبائل کی دکانیں قائم کرئیں گے جہاں نہ صرف موبائل ٹھیک کیے جائیں گے بلکہ موبائل ایسیسیریز بھی دستیاب ہوں گی، موجودہ دور میں اس کام کی بہت ڈیمانڈ ہے اور یہ کام نفع بخش بھی ہے ، ہم امید کرتے ہیں کہ دکان کھلنے کے بعد ہم روزانہ 1500 سے 2000 تک کما سکیں گے ، ہم اپنے مستقبل کے خوابوں کو سچ ہوتا دیکھ رہے ہیں ، سندھ گورنمنٹ اور سرسو کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں ۔