Monday, September 26, 2022

پڑوسی ملک اقتصادی راہداری منصوبے کیخلاف سازش کر رہا ہے : صدرمملکت

پڑوسی ملک اقتصادی راہداری منصوبے کیخلاف سازش کر رہا ہے : صدرمملکت

اسلام آباد (92نیوز) صدر مملکت ممنون حسین نے سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اختلاف یا کسی گروہ کو حق نہیں کہ وہ غیرقانونی طریقے سے حکومت پر اپنی مرضی مسلط کرے۔ ذاتی ضد کو جمہوریت اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔ یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے اتنی پہلے نہیں تھی۔

صدر مملکت نے کہا کہ قومی معیشت کے احیا کےلئے راہداری منصوبے کو جاری رہنا چاہئے۔ ہمارے پڑوسی ملک نے اس منصوبے کےخلاف سازش شروع کر دی۔ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر اس سال کے آخر تک کام مکمل ہو جائے گا۔ راہداری منصوبہ کسی جماعت یا ایک حکومت کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر ممنون حسین کا خطاب سننے کیلئے تینوں مسلح افواج کے سربراہان پارلیمنٹ ہاﺅس میں موجود تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں اجلاس شروع ہوا تو چاروں صوبوں کے گورنرز‘ وزیراعظم کے مشیر‘ چیئرمین سینیٹ اور کئی ممالک کے سفارتکار بھی مہمان گیلری میں موجود تھے۔ مشترکہ اجلاس کا آغاز قومی ترانے سے ہوا جس کے بعد تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی گئی۔

صدر مملکت نے موجودہ پارلیمنٹ کا چوتھا سال شروع ہونے پر ارکان قومی اسمبلی کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی ترقی کا اندازہ معاشی ترقی سے لگایا جاتا ہے۔ غیرجانبداری سے دیکھا جائے تو ملک کی معاشی حالت تسلی بخش ہے۔ ملکی پیداوار کی شرح 4.7 فیصد جبکہ روپے کی قیمت مستحکم ہوئی۔ معیشت کے استحکام کے لئے پالیسیوں میں تسلسل جاری رہنا چاہئے۔

ممنون حسین نے کہا کہ جو قوم داخلی اختلافات کو بھلا کر معیشت کو مضبوط کر لیتی ہے وہ اپنے فیصلوں میں خودمختار ہوتی ہے۔ زندہ قومیں ٹیکس کی ادائیگی اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتی ہیں۔ قطر کا ایل این جی منصوبہ مفید ہے۔ دیامر، بھاشا ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دینے کےساتھ چھوٹے منصوبوں پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔

صدر نے امید ظاہر کی کہ اس سال ضرب عضب کے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ملک کے غیرجانبدار علما اور دانشوروں کا گروپ تشکیل دیا جائے جو انتہا پسندی کا خاتمہ کر سکے۔ جس قوم کے جوانوں کے دل قربانی کے جذبے سے لبریز ہوں اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک خطے کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ہم پڑوسیوں کےساتھ خوش اسلوب مذاکرات چاہتے ہیں۔ پٹھانکوٹ واقعے کی تحقیقات کے باوجود سیکرٹری خارجہ کی سطح پر بھی مذاکرات نہ ہونا باعث تشویش ہے۔

صدر ممنون حسین نے کہا ہم خلیج تعاون کونسل کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر بات کر رہے ہیں۔ ایران کے صدر کا دورہ پاکستان بہت اہم تھا۔ ایران پر عائد پابندیاں ہٹنے کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت اسی صورت ممکن ہے جب مشترکہ سرحدیں محفوظ ہوں۔ سعودی عرب کی قیادت میں 35 ممالک کے اتحاد میں شمولیت اہم پیش رفت ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں مزید وسعت ہوئی ہے۔ او آئی سی، سارک، ایشیائی ڈائیلاگ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان خطے میں علاقائی تعلقات کی بحالی کے لئے کوشاں رہتا ہے۔

صدر مملکت ممنون حسین کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے ڈرون حملوں کیخلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ بعدازاں پارلیمنٹ کا اجلاس غیرمعینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔