Sunday, October 2, 2022

پولیس نے فیض آباد دھرنے سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی

پولیس نے فیض آباد دھرنے سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی

اسلام آباد ( 92 نیوز ) فیض آباد دھرنے سے متعلق پولیس نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی جس میں اہم انکشافات کئے گئے ۔ رپورٹ کے مطابق آپریشن میں ساڑھے پانچ ہزار اہلکاروں نے حصہ لیا اور دھرنا قائدین نے اہلکاروں کے مذہبی جذبات ابھارنے کیلئے تقاریر کیں ۔ جبکہ واضح موقف اپنایا گیا کہ سکیورٹی اداروں میں کوآرڈینیشن کا فقدان تھا ۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ دھرنے والوں سے مذاکرات پر زیادہ وقت صرف ہوا ۔ اہلکار مسلسل 20 روز سے ڈیوٹی پر معمور رہنے کی وجہ سے تھکان کا شکار ہو چکے تھے ۔ دھرنے والوں کے خلاف آپریشن میں ساڑھے پانچ ہزار اہلکاروں نے حصہ لیا ۔ اور ابتدائی کارروائی میں 80 فیصد حصے کو کلیئر بھی کرایا گیا ۔ آپریشن کے دوران 173 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں واضح تسلیم کیا گیا کہ آپریشن کے دوران راولپنڈی سے تازہ دم مظاہرین بھی شامل ہو رہے تھے جو پتھروں اور ڈنڈوں سے لیس تھے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میڈیا، سوشل میڈیا اور رئیل ٹائم دھرنے کے مقام پر آپریشن کی معلومات دھرنے والوں کو پہنچاتا رہا جبکہ کھلی جگہ ہونے کی وجہ سے آنسو گیس کے شیل بھی اثر انداز نہیں ہوئے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران دھرنے کے قائدین نے لاؤڈ اسپیکر پر پولیس اہلکاروں کے مذہبی جذبات کو ابھارنے کے لئے تقاریر کیں جن کے نتیجے میں دھرنے والوں کے خلاف موثر کارروائی نہ ہو سکی۔