Friday, January 28, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

پنجاب اور سندھ میں مارکیٹیں اور بازار مرحلہ وار کھولنے کی تیاریاں شروع

پنجاب اور سندھ میں مارکیٹیں اور بازار مرحلہ وار کھولنے کی تیاریاں شروع
May 3, 2020

لاہور ، کراچی ( 92 نیوز) پنجاب اور سندھ حکومت نے صوبوں میں مارکیٹس اوربازار مرحلہ وارکھولنے کی تیاریاں شروع کردیں ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کہتے ہیں وفاق کی اجازت ملتے ہی کاروبار کھول دیں گے، بلوچستان میں پانچ مئی کے بعد لاک ڈاؤن ختم ہونے امکان ہے۔

رمضان المبارک کا مہینہ،عید قریب، لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہونے والے کاروبار کھلنے کی امید جاگنے لگی۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے تاجروں کے دباؤ پر مرحلہ وار کاروبار کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کاروباری حضرات کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ  صوبے میں مارکیٹوں اور بازاروں کومرحلہ وار کھولا جائے گا ، زوننگ کر کے مارکیٹوں اور بازاروں کو مخصوص دن اورمخصوص اوقات میں کھولنے کی تجویز ہے، اس کے لئے صنعتکاروں اور تاجر برادری کو وضع کردہ ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، وزیر اعلیٰ پنجاب نے صنعتکاروں اور تاجر برادری کے نمائندوں سے ملاقات میں یہ خوشخبری سنائی۔

پنجاب میں روڈ سیکٹر اور بلڈنگ کے علاوہ کنسٹرکشن سے متعلقہ دیگر انڈسٹری کو کھولنے کی اجازت دی جائے گی، ایکسپورٹ سیکٹر سے منسلک فیڈنگ انڈسٹری کو بھی کھولا جائے گا، پاور لومز،آئرن اور اسٹیل انڈسٹری اور ہوم اپلائسز انڈسٹری کو کھولنے کی تجویز ہے۔

دوسری طرف سندھ میں مارکیٹیں کھولنے کیلئے الگ الگ اوقات اور دن مختص کرنے کیلئےکابینہ کمیٹی نے سفارشات اور تجاویز تیار کرلیں ، کاروباری سرگرمیوں کی محدود بحالی سے متعلق فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے ۔

صوبے میں مزید35 برآمدی صنعتوں کو ایس او پیز کے تحت کام کرنے کی اجازت بھی مل گئی۔

ادھر  وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کا چیلنج طویل ہے ،ہوسکتا ہے چھ ماہ یا سال چلے ، عوام لمبے دورانیے کا لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرپائے گی۔

ادھر بلوچستان میں 5 مئی کے بعد لاک ڈاؤن ختم ہونے کا امکان ہے ،حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور تاجر برادی میں ملاقات کے بعد فیصلہ متوقع ہے، کاروباری سرگرمیوں کی محدود بحالی سے متعلق تو فیصلہ چند روز میں متوقع ہے لیکن اس کے ساتھ پبلک  ٹرانسپوٹ کی بحالی بھی صوبائی حکومتوں کیلئے بڑا چیلنج ہوگی۔