Monday, February 26, 2024

پرویز مشرف ان خوش قسمت مسلمانوں میں شامل ہیں جنہیں کعبہ شریف کی حفاظت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی

پرویز مشرف ان خوش قسمت مسلمانوں میں شامل ہیں جنہیں کعبہ شریف کی حفاظت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی
December 21, 2019
 لاہور (92 نیوز) سابق صدر اور پاک فوج کے سابق سربراہ پرویز مشرف ان خوش قسمت مسلمانوں میں شامل ہیں جنہیں کعبہ شریف کی حفاظت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ پرویز مشرف مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق صدر اور اس کی سرحدوں ، محافظ پاک فوج کے سابق سپہ سالار کی حیثیت سے یاد رکھیں جائیں گے مگر ان کا وہ کارنامہ جو ہر مومن کا خواب ہے جس کی خواہش ہر مسلمان کی تمنا ہے اس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ 20نومبر 1979 بروز منگل اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم کی پہلی تاریخ تھی۔ خانہ کعبہ میں نماز فجر ادا کی جارہی تھی۔ امام صاحب نے سلام پھیرا ہی تھا کہ کچھ حملہ آوروں نے ان کو گھیرے میں لے لیا اور لاؤڈ اسپیکر اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس وقت حرم شریف میں ہزاروں نمازی موجود تھے۔ حرم شریف کے ان حملہ آوروں کا سرغنہ 27 سالہ محمد بن عبداللہ القحطانی تھا جس نے 4 سال تک مکہ یونیورسٹی میں اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ اس نے لوؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا کہ وہ اس صدی کا امام مہدی ہے۔ میرے ہاتھ پر سب لوگ بیعت کریں۔ محمد بن عبداللہ القحطانی 500 ساتھیوں سمیت خانہ کعبہ پر حملہ آور ہوا تھا اور حرم پاک میں داخل ہونے کے بعد تمام دروازے بند کردئیے اور ہزاروں نمازیوں کو یرغمال بنا لیا۔ اس گمراہ کن ٹولے نے مقام ابراہیم علیہ سلام کے قریب جاکر اسلحہ کے زور پر دہشت پھیلانا شروع کر دی۔ زبردستی لوگوں سے بیعت لینا شروع کر دی۔ کئی صدیوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب خانہ کعبہ عام انسانوں کے لئے بند کر دیا گیا تھا۔ سعودی حکومت نے ان حملہ آوروں سے نمٹنے کے لئے اپنی فوج بھیجی جو بری طرح ناکام رہی۔ سعودی کمانڈوز حرم پاک میں داخل تک نہ ہو سکے تھے۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل گئی کہ خانہ کعبہ پر دہشت گردوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ یہ سن کر مسلم امہ میں غم و غصے کی لہر ڈور گئی۔ اس وقت خانہ کعبہ کو نقصان پہنچائے بغیر دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن نہ تھا کیونکہ سعودی فوج ایسی مہارت نہیں رکھتی تھی۔ اس وقت سعودی حکومت کا فرانسیسی حکومت کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی تھا لیکن فرانسیسی کمانڈوز غیر مسلم ہونے کی وجہ سے خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ تب سعودی فرمانروا شاہ خالد نے خانہ کعبہ کے دفاع کے لئے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیا اورکہا کہ پاک فوج بیت اللہ کا دفاع کرے ۔ اس وقت جنرل ضیا کی حکومت تھی اور پاک فوج تو پہلے ہی بیت اللہ کے تحفظ کے لئے تیار بیٹھی تھی۔ ایس ایس جی کے کمانڈوز پر مشتمل ایک خصوصی دستہ ترتیب دیا گیا اور اسے حرم پاک کی پاسبانی کے لئے سعودی عرب روانہ کیا گیا۔ ایس ایس جی کے ان کمانڈوز کی قیادت ایک میجر کو سونپی گئی۔ اس کا نام میجر پرویز مشرف تھا۔ جب پاکستانی کمانڈوز کا یہ دستہ حرم پاک پہنچا تو اس وقت دہشت گردوں کے قبضے کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ پاک فوج کے کمانڈوز کا یہ ٹریڈ مارک ہے کہ یہ اپنے دشمن پر اتنی تیزی سے حملہ آور ہوتے ہیں کہ انہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دیتے۔ یہاں پر معاملہ کچھ مختلف تھا کیونکہ بات خانہ کعبہ کی حرمت کی بھی تھی۔ میجر پرویز مشرف کی قیادت میں ایس ایس جی کے کمانڈوز نے حرم پاک کا کیمروں کی مدد سے جائزہ لیا۔ میجر پرویز مشرف نے دہشت گردوں کی پوزیشن کو مارک کیا اور حکمت عملی بنانی شروع کر دی۔ میجر پرویز مشرف نے سعوی حکام سے کہا کہ مسجد حرام کے صحن میں پانی چھوڑ دیا جائے اور کمانڈوز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مسجد کی چھت پر اتارنے کی اجازت دی جائے۔ اجازت ملنے کے بعد ایس ایس جی کے کمانڈوز کا اصل ایکشن شروع ہوا۔ ایک طرف مسجد حرام کی چھت پر کمانڈوز اترنا شروع ہوئے تو دوسری جانب خانہ کعبہ کے صحن میں کھڑے پانی میں میجر پرویز مشرف کے حکم پر کرنٹ چھوڑ دیا گیا۔ اس فوری اور غیر متوقع کارروائی کی وجہ سے دہشت گردوں کے ٹاپ شوٹرز غیر فعال ہو گے اور ایس ایس جی کے کمانڈوز کے سنائپرز نے فضا سے ہی دہشت گردوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ جونہی ایس ایس جی کمانڈوز کی پوزیشن مضبوط ہوئی صحن میں چھوڑی گئی بجلی بند کر دی اور کمانڈوز نے بجلی کی تیزی کی طرح دہشت گردوں پر جھپٹے اور انہیں قابو کر لیا۔ زندہ بچ جانے والے حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ دہشت گردوں کا سرغنہ محمد بن عبداللہ القحطانی اسی آپریشن کے دوران پاک فوج کے کمانڈوز کی گولیوں کا نشانہ بن گیا تھا۔ میجر پرویز مشرف کی ذہانت اور ایس ایس جی کمانڈوز کی دلیری کی وجہ سے کم سے کم نقصان ہوا اور دہشت گردوں کے مذموم عزام کو خاک میں ملا دیا گیا۔ یہ وہی میجر پرویز مشرف تھا جو بعد میں پاک فوج کا سپہ سالار بنا  اور پاکستان کے صدر کا عہدہ بھی سنھبالا۔ اسی وجہ سے آج تک سعودی حکومت پرویز مشرف کی عزت و توقیر کرتی ہے اور ان کے لئے خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا جاتا ہے۔ سعودی حکومت سمیت پوری مسلم امہ پرویز مشرف کی شجاعت اور بہادری کی گرویدہ ہے۔