Sunday, September 25, 2022

پاک امریکا ورکنگ گروپ کا ساتواں اجلاس، ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر اتفاق، باہمی اہمیت، علاقائی سلامتی اور استحکام پر تبادلہ خیال

پاک امریکا ورکنگ گروپ کا ساتواں اجلاس، ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر اتفاق، باہمی اہمیت، علاقائی سلامتی اور استحکام پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (نائنٹی ٹو نیوز) امریکا اور پاکستان نے ورکنگ گروپ کے ساتویں اجلاس میں ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں باہمی تعاون، ایٹمی عدم پھیلاؤ، ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال، علاقائی سلامتی اور استحکام سے متعلق مثبت تبادلہ خیال کیا گیا۔ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں امریکا کی نمائندگی آرمز کنٹرول اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی روز گوٹے موئیلر نے کی جبکہ پاکستان کی طرف سے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاک امریکا سلامتی، اسٹریٹیجک استحکام سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ امریکی وفد نے نیوکلیئر سپلائر گروپس کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹیجک ٹریڈ کنٹرول کی ہم آہنگی کو سراہا۔ پاکستان نے پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں ملکوں کے وفود نے تباہ کن ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ پاکستان اور امریکا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پندرہ سو چالیس کے تحت مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کریں گے۔ پاکستانی وفد نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکا کی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ایران کا ایٹمی معاملہ پرامن طریقے سے حل ہو جائے گا۔ دونوں ملکوں کے وفود کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔ پاک امریکا ورکنگ گروپ کے اجلاس میں افغانستان کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے ورکنگ گروپ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہا کہ نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا حصہ بننے میں امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان بھی نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا حصہ بننے کا حقدار ہے۔ پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کر رہے ہیں۔