Wednesday, December 7, 2022

پاکستان گرمی کی لہر پر کیسے قابو پا سکتا ہے ؟ ماہرین نے رہنما اصول بتا دیئے

پاکستان گرمی کی لہر پر کیسے قابو پا سکتا ہے ؟ ماہرین نے رہنما اصول بتا دیئے
لاہور (92نیوز) کراچی میں پڑنے والے حالیہ ہلاکت خیز گرمی ایک ہزار کے قریب افراد کی جانیں لے چکی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بعض معمولی اقدامات سے اس پر قابو پایا جا سکتا تھا۔ تفصیلات کے مطابق موسمیات کے ماہرین نے کہا ہے کہ موسم کا یہ تغیر کوئی نئی بات نہیں، کچھ دن قبل بھارت بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہوا تھا اور بھارت میں گرمی سے 3ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ماہرین نے مزید کہا کہ چند برس پہلے نیویارک سمیت امریکہ کے بیشتر مشرقی ساحلی شہروں میں بھی اسی طرح کی گرمی کی تاریخی لہر آئی تھی۔ اس موقع پر نیویارک کی شہری حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کراچی جیسے شہر کی انتظامیہ کےلئے ایک مثال ثابت ہو سکتے ہیں۔ موسم گرم ہوتے ہی نیویارک، شکاگو اور دیگر شہروں میں ایمرجنسی مینجمنٹ آفس نے شہریوں کےلئے رہنما اصول جاری کرنے کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ کولنگ سینٹرز قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ نیویارک کے اس وقت کے میئر بلوم برگ نے شہر کے مختلف علاقوں میں 380 کولنگ سنٹرز قائم کر دیئے اور سکولوں اور کمیونٹی سنٹرز کی عمارتوں کے ایئرکنڈیشن آن کرکے اسے عام شہریوں کےلئے کھول دیا۔ شہری حکومت نے ”ایئر کوالٹی الرٹ“ جاری کیا تاکہ لوگوں کو ہوا میں نمی کا تناسب اور اس کے صحت پر اثرات کا پتہ چل سکے۔ جگہ جگہ پانی کے ایسے فوارے نصب کئے گئے جن سے پانی کی بجائے ان کے بخارات نکلتے جو لوگوں کو بھگونے کی بجائے ٹھنڈ پہچاتے۔ لوگ دن بھر ان فواروں کے اطراف میں تفریح کرتے اور خود کو گرم لہروں سے بھی محظوظ کرتے۔ شہری حکومت نے ایمرجنسی کے تحت بڑی عمر کے لوگوں کےلئے خصوصی انتظامات کئے، انہیں کولنگ سنٹرز میں مفت پانی اور کولڈ ڈرنک پیش کیا گیا۔ ساتھ ہی انٹرنیٹ پر تمام کولنگ سنٹرز کی نشاندہی کی گئی اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ان سنٹرز کا بھرپور استعمال کرکے خود کو گرم لہروں سے بچائیں۔ ایمرجنسی سنٹرز نے ہدایت جاری کی کہ لوگ ڈھیلا ڈھالا لباس پہنیں، دھوپ سے بچیں، چہرے پر پانی ڈالتے رہیں، جلد کےلئے سن اسکرین استعمال کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، کھڑی گاڑیوں میں بچوں یا بڑی عمر کے لوگوں کو نہ چھوڑیں اور ہر ممکن طریقے سے خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کریں۔