Saturday, December 3, 2022

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ پکڑا جا چکا، احسن اقبال

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ پکڑا جا چکا، احسن اقبال
لاہور (92 نیوز) پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ پکڑا جا چکا، تحریک انصاف کے 23 اکاؤنٹس ایسے ہیں جو الیکشن کمیشن کو رپورٹ نہیں کیے گئے، احسن اقبال کا کہنا ہے نیا پاکستان بنانے کے نام پر بیرون ملک سے رقوم لی گئیں، فارن فنڈنگ کیس کو مختلف حیلوں بہانوں سے التوا کا شکار کیا جارہا ہے، کیس کا اوپن ٹرائل کیا جائے، نون لیگ کا کوئی اکاؤنٹ اَن رپورٹڈ نہیں۔ ن لیگی رہنماء نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں باہر سے ہونے والی فنڈنگ کو شفاف انداز میں رپورٹ کریں، جو دوسروں پر کیچڑ اچھال کر خود کو مسٹر کلین ظاہر کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ کرپشن میں خود ملوث ہوئے ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس کو مختلف حیلوں بہانوں سے التواء کا شکار کیا جارہا ہے۔ احسن اقبال نے حکومت نے ہم پر الزام لگایا کہ ہم الیکشن کمیشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں، ہم تو صرف یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ پانچ سال سے التواء کے شکار کیس کا جلد فیصلہ سنایا جائے، اپوزیشن الیکشن کمیشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کر رہی، حکومت مواخذے سے بچنا چاہ رہی تھی، اب جب 6 دسمبر کو 5 میں سے 3 ارکان جب غیرحاضر ہوجائیں گے تو تحریک انصاف یہ نکتہ اٹھائے گی کہ الیکشن کمیشن اب فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا کوئی اکائونٹ ان رپورٹڈ نہیں ہے، تحریک انصاف کے 23 اکائونٹ جو الیکشن کمیشن کو رپورٹ نہیں کیے گئے کے بارے میں سٹیٹ بینک نے تصدیق کی ہے کہ تحریک انصاف کے مختلف رہنماء انہیں اپ ڈیٹ کرتے ہیں۔ نیا پاکستان بنانے کے نام پر بیرون ملک سے ڈونیشنز لی گئیں جس کا کوئی حساب کتاب نہیں، اگر سب ٹھیک ہے تو پھر آپ عدالتوں اور الیکشن کمیشن میں کیوں درخواستیں لے کر جاتے ہیں کہ اس کیس کی سماعت کو خفیہ رکھا جائے۔ ن لیگی رہنماء کہتے ہیں میڈیا کو تمام ٹرائلز کور کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ جھوٹا کون ہے اور سچا کون ہے، آپ پر لگے الزامات کا اوپن ٹرائل ہونا چاہئے، جو خود کو دیانتداری کا مینار سمجھتے ہیں، وہ عدالت جا کر کہتے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات کی کسی قسم کی میڈیا کوریج نہیں ہونی چاہئے، آج قوم جاننا چاہتی ہے کہ بھارت سے کس نے آپ کو فنڈنگ کی ہے، مشرق وسطیٰ، امریکہ، مغرب سے کس کس نے آپ کی فنڈنگ کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو فکر نہیں ہے توبیرون ملک فنڈنگ کی کیوں نہیں منی ٹریل پیش کی جارہی، قوم جاننا چاہتی ہے کہ ان 23 اکائونٹس میں کس نے ڈونیشنز دیں، انہیں کہاں خرچ کیا گیا، یہ ناقابل معافی جرم ہے جس کا عمران نیازی کو حساب دینا ہوگا۔ حکومتی کارکردگی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ 15 مہینوں میں انہوں نے جھوٹ بول بول کر پاکستانی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، جنوبی پنجاب اور سندھ کے ان کسانوں سے پوچھیں جن کی فصلیں تباہ ہوگئیں اور آپ نے ان کا حال بھی نہیں پوچھا، کھاد اور ادویات دو سے تین گناہ مہنگی ہونے سے وہ اپنے اخراجات بھی پورے نہیں کر پارہے، اس نوجوان سے پوچھیں جس نے تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں اب وہ جس دفتر میں جاتا ہے اسے سننے کو ملتا ہے ہم پچھلے لوگوں کو نکال رہے ہیں ہم تمہیں روزگار کہاں سے دیں۔ احسن اقبال کا کہنا تھا سوشل میڈیا میں آپ خوشنما سلائیڈز تو بنا سکتے ہیں لیکن بھیانک مہنگائی کی خوفناک تصویر کو سوشل میڈیا کی خوبصورت سلائیڈز سے نہیں چھپا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جتنا فرق تین سو روپے اور سترہ روپے کلو ٹماٹر میں ہے اتنی ہی حقیقت حکومتی دعوئوں میں ہے، وزیراعظم کو نوبل انعام کے لیے تجویز کرتا ہوں، انہوں نے بہت بڑی ڈسکوری کی ہے، وہ فرماتے ہیں مہنگائی کی وجہ سے غربت بڑھ گئی ہے، اس انکشاف پر آپ اس لائق ہیں کہ آپ کو نوبل انعام ملنا چاہئے۔ مزید بولے کہ ابھی آپ نے اس قوم کا مزید تیل نچوڑنا ہے، ابھی ناجانے کتنے لوگ خودکشی کریں گے، کتنے لوگ ذہنی مریض ہوجائیں گے، آپ عوام کو بے وقوف بناتے رہے کہ میں نے ہوم ورک کیا ہے، میرے پاس ٹیم ہے۔