Thursday, October 6, 2022

پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم بنانے جا رہے ہیں ،وزیر اعظم

پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم بنانے جا رہے ہیں ،وزیر اعظم
چلاس ( 92 نیوز) وزیر اعظم عمرا ن خان نے  دیامر بھاشا ڈیم سائٹ کا دورہ کیا ، اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم  بنانے جارہے ہیں۔ دیا مر بھاشا ڈیم کی  سائٹ کے دورے کے موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، ڈی جی آئی ایس پی آر ، وفاقی وزراء ، معاون خصوصی برائے اطلاعات بھی موجود تھے ،وزیر اعظم کو ڈیم پر کام کی پیشرفت بارے بریفنگ بھی دی گئی ۔ وزیر اعظم عمران خان  نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ہم آگے بھی ڈیمز بنانا چاہتے ہیں، قومیں ترقی تب کرتی ہیں جب وہ آگے کا سوچتی ہیں، وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو مشکل فیصلے کرتی ہیں،بڑے فیصلے ہی بڑی قومیں بناتی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ  جو قوم دوراندیش ہوتی ہے وہ  بڑی قوم بنتی ہے،چین میں 30،30 سال کے پلان بنے ہوئے ہیں،30سال قبل کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا چین اتنی ترقی کرجائے گا ، دیگر اقوام ں چین کی ترقی سے ڈری ہوئی ہیں،ہماری بدقسمتی رہی ہم نے شارٹ ٹرم پر فیصلے کیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ نے پاکستان کو دریاؤں اور پانی کی نعمت دی ہے،کے ٹو سے سمندر تک پاکستان میں 12 کلائمٹ ہیں،90کی دہائی میں امپورٹڈ فیول پر بجلی بنانے کے فیصلے کیےگئے،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتا جاتا ہے تو روپیہ گرنا شروع ہوجاتا ہے،ہمارے ڈالر ملک سے زیادہ باہر جاتے تھے،ملک میں کم آتے تھے،جب ہماری حکومت آئی تو 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا،باہرسے تیل امپورٹ کر کے بجلی بنانے سے ہماری کرنسی پر دباؤ بڑھا، بدقسمتی سے ہم نے غلط فیصلے کیےہماری دریاؤں سے بہت زیادہ بجلی بن  سکتی تھی،ہم نے امپورٹ فیول سے بجلی بنانا شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم ہم بنانے جارہے ہیں، دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کا سب سے بڑا  ڈیم ہوگا، چین نے 5ہزار بڑے ڈیمز بنائے ہوئے ہیں،ہم نے تاریخی غلطیاں کیں،پانی سے بجلی نہیں بنائی،دیامر بھاشا ڈیم کی سائٹ بہت زبردست ہے،40سال پہلے ڈیم بنانے کا فیصلہ ہوا،کام آج شروع ہوا،ہر وقفے کے بعد ہم اگلے ڈیم کی طرف جائیں گے،ہمارا اپنا فیول ہوگا یعنی  پانی پاکستان کا ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے پاکستان میں بہت بڑی بیروزگاری پھیلی ہے  ،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ایس او پیز کیساتھ ٹورازم کھولنا شروع کریں، دنیا آگے نکل رہی تھی،چلاس کے لوگ پیچھے رہ گئے تھے،چلاس کے لوگوں کو اللہ کی طرف سے زبردست موقع ملا ہے،قومیں تب بدلتی ہیں جب ان کے بچوں کو تعلیم ملتی ہے،حکومت کی پالیسی ہے جوعلاقے پیچھے رہ گئے ہیں انہیں اٹھانے کی کوشش کریں۔