Sunday, October 2, 2022

پاکستان کی بھارت کو پھر مشروط مذاکرات کی پیشکش

پاکستان کی بھارت کو پھر مشروط مذاکرات کی پیشکش

 اسلام آباد (92 نیوز) پاکستان نے بھارت کو پھر مشروط مذاکرات کی پیشکش کر دی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے ،لوگوں کے حقوق بحال کرنے اور زیر حراست قیادت کو رہا کرنے پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

وزیرخارجہ نے برطانوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، بھارت کی جانب سے مذاکرات کا ماحول دکھائی نہیں دے رہا۔ انہوں نے کہا کسی تیسرے فریق کی معاونت یا ثالثی کو بھی خوش آمدید کہا جائے گا۔ بھارت سنجیدہ ہے تو پہلے کشمیری رہنماؤں کو رہا کرے اور ان سے  ملنے دے، تاکہ کشمیری قیادت سے مشاورت کر سکوں۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے کبھی جارحانہ پالیسی نہیں اپنائی ، ترجیح ہمیشہ امن ہی رہی ہے۔ جنگ مسلط کی گئی تو فوج بھی تیار ہے اور عوام بھی تیار ہے۔ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہونا پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا خلیجی ممالک کا کشمیر کے معاملے پر مؤقف واضح  ہے۔ نیو یارک کشمیر گروپ کے اجلاس  میں سعودی عرب بڑھ چڑھ کر حصہ لے گا۔ او آئی سی ممالک کے عوام کشمیریوں کے ساتھ مکمل ہمدردی رکھتے ہیں۔ حکمرانوں کی مصلحتیں ہوتی ہیں، وہ دو طرفہ تعلقات دیکھ کر نپی تلی بات کرتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے مودی کا موقف مسترد کرتے ہوئے کہا کشمیر دو ملکوں کا آپس کا معاملہ نہیں ، بین الاقوامی سطح پر مانا گیا تنازع ہے جس پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 11 قراردادیں موجود ہیں۔

وزیرخارجہ نے  کہا کہ  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  سے توقعات ہیں، بھارتی  حکومت کو کوئی متاثر کرسکتا ہے تو وہ امریکا ہے۔ پاکستان نے ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش قبول کی، بھارت نے راہ فرار اختیار کی ہے۔

 نائنٹی ٹو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سب کے سامنے ہے ایسے میں مذاکرات کیسے ممکن ہیں۔

 وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں لوگ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ لوگ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں ،خواتین سے زیادتی کی جارہی ہے۔ بھارت سے کرفیو ہٹانے اور قیدیوں کی رہائی پر بات ہو سکتی ہے۔