Sunday, November 28, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

پاکستان نے بھارت کیساتھ مشروط مذاکرات منسوخ کردیے

پاکستان نے بھارت کیساتھ مشروط مذاکرات منسوخ کردیے
August 22, 2015
اسلام آباد(92نیوز)پاکستان نے بھارت کیساتھ مشروط مذاکرات منسوخ کر دیے، دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ نے تمام تصفیہ طلب معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے پاکستانی موقف کو تسلیم کرکے پھر یکطرفہ طور پر مذاکرات کو دہشتگردی اور ایل او سی تک محدود کرنے کا اعلان کر دیا۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی پریس کانفرنس کے نکات کا محتاط جائزہ لیا ہے، اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مشروط مذاکرات بلا مقصد اور بے معنی ہونگے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ نے خود تسلیم کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام حل طلب امور کو مذاکراتی عمل یعنی جامع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کے فوری بعد انھوں نے یکطرفہ طور پر مزاکرات کو دہشتگردی اور ایل او سی تک محدود کرنے کا اعلان کر دیا۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت نے دہشتگردی کے جن واقعات کا الزام ابتدائی طور پر پاکستان پر تھوپا بعد میں وہ جھوٹ ثابت ہوئے، بھارت کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ ایک دو واقعات اور ایل او سی پر کشیدگی کو بنیاد بنا کر جامع مزاکرات کی بحالی میں تاخیر کرے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشتگردی جامع مذاکرات کے آٹھ نکات میں شامل ہے ،،  سیکرٹری داخلہ سطح کے مذاکرات میں اس پر بات بھی ہوتی رہی ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا، اعتماد کی بحالی اور حالات کو معمول پر لانا ہے۔ لیکن اگر قومی سلامتی مشیروں کی سطح کے مذاکرات کو دہشتگردی تک محدود کر دیا جائے تو اس سے صورتحال  مزید کشیدہ اور بلیم گیم میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان نے تجویز دی ہے کہ اوفا میں جاری کئے گئے بیان کے مد نظر دہشتگردی سے متعلقہ امور کیساتھ ساتھ دونوں ممالک کو کشمیر سمیت تمام معاملات کے حل کیلیے طریقہ کار اور ٹائم فریم بھی طے کر لینا چاہئے ،،کیونکہ یہی دوطرفہ تعلقات میں  بہتری اور امن کا واحد راستہ ہے۔ پاکستان نے بھارت کی دوسری شرط کہ سرتاج عزیز حریت راہنماوں سے ملاقات نہ کریں کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ یہ بیس سالہ روایت ہے جسے بھارت کے کہنے پر توڑا نہیں جا سکتا۔