Sunday, September 25, 2022

پاکستان نے ابھی نندن کے جہاز پر لگے میزائل میڈیا کے سامنے پیش کر دیے

پاکستان نے ابھی نندن کے جہاز پر لگے میزائل میڈیا کے سامنے پیش کر دیے
اسلام آباد ( 92 نیوز) پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کے 27 فروری 2019 کو ایف سولہ طیارہ گرانے کے دعوے کی قلعی کھول دی ، پاکستان نے حقائق اور ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے پیش کرکے بھارتی جھوٹ بے نقاب کردیا، پاک فضائیہ نے ابھی نندن کے جہاز پر لگے تمام چاروں میزائل میڈیا کے سامنے پیش کردئیے۔ بھارت کے جھوٹے حکمران ، جھوٹے فوجی حکام اور جھوٹا میڈیا ، پاکستان کا دو بھارتی طیارے گرانے کا سچ بھی دنیا نے دیکھا اوربھارت کا پاکستانی ایف سولہ طیارہ گرانے کا جھوٹ بھی ، پاک فضائیہ نے 27فروری 2019ءکے اصل حقائق اور ناقابل تردید ثبوت پھر دنیا کے سامنے رکھ دیے، بھارت پھر رسوا ۔ پاک فضائیہ نے آپریشن سویفٹ ریٹارٹ کے دوران گرفتار بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کے زیر استعمال مگ 21 بائیسن طیارے پر لگے چاروں میزائل دیکھا دئیے ، فائر نہ ہونے والے اِن میزائلوں میں سے دواصل حالت، دو طیارہ گرنے کے باعث جزوی نقصان زدہ تھے جبکہ ابھی نندن کی ایجیکٹ سیٹ بھی نمائش کیلئے پیش کردی ۔ ماہرین سوال اٹھاتے ہیں بھارتی دعوی تھاکہ ابھی نندن کے جہاز سے فائر میزائل سے ایف سولہ گرایا، پھر اُسکا جہاز گرا، ابھی نندن ایک میزائل بھی فائر نہ کرسکا ، بیچارا جہاز کیا گراتا؟ ۔ امریکا نے کہا پاکستانی ایف سولہ پورے ہیں ، اگر طیارہ گرا نہیں تو بھارتی دعوی کیسا؟ ابھی نندن کیلئے اعزاز کیسا؟،  شایدمگ 21 بائسن کی تباہی پر بھی زندہ بچنے اورگرفتاری پر دیا گیا ہے ؟۔ پاک فضائیہ حکام نے منعقدہ بریفنگ میں بتایا کہ آپریشن سویفٹ ریٹارٹ میں4اہم ترین بھارتی زمینی اہداف ہیڈکوارٹر 80بریگیڈ، ہیڈکوارٹر 120 بریگیڈ،بھارتی سپلائی ڈیپواور ناریان ہدف پر لیے گئے، لیکن امن کی خواہش کے پیش نظر تباہ نہیں کیے گئے ۔ پاک فضائیہ نے واضح کیا کہ آپریشن سویفٹ ریٹارٹ کے دوران سو فیصد بھارتی طیارے نشانے پر تھے، محض دو مار گرائے، رافیل سمیت دشمن کے ہر جہاز کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں، بھارت نے پھر جارحیت کا ارتکاب کیا تو پہلے سے زیادہ مہلک جواب ملے گا۔