Thursday, September 29, 2022

پاکستان میں 55 فیصد پراپرٹی ٹیکس چوری ہوتا ہے، اقوام متحدہ

پاکستان میں 55 فیصد پراپرٹی ٹیکس چوری ہوتا ہے، اقوام متحدہ

اسلام آباد (92 نیوز) اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 55 فیصد پراپرٹی ٹیکس چوری ہوتا ہے۔ لاہور 80 فیصد کی شرح کے ساتھ ملک بھر میں سب سے آگے ہے۔
بدیانتی اور غفلت کے باعث حکومت ہر سال پراپرٹی ٹیکس کی مد میں بڑی امدن سے محروم رہ جاتی ہے۔
مقامی حکومتوں کی کارکردگی رپورٹ میں اقوام متحدہ بتاتا ہے کہ اوسط پاکستان میں 55 فیصد ٹیکس چوری ہوتا ہے۔ صرف لاہور میں 45 سے 80 فیصد پراپرٹی ٹیکس ہڑپ کر لیا جاتا ہے۔ یہ چوری پراپرٹی کی اصل قیمت کئی گناہ کم دیکھا کر کی جاتی ہے۔ حکومتی محکمے یا تو غفلت میں ہوتے ہیں یا مک مکا کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پراپرٹی کی قیمت چھپانے پر احتساب نہیں ہوتا۔ پراپرٹی ٹیکس کی صیح وصولی نہ ہونے پر حکومت بھی ذرائع سے محروم رہتی ہے۔
اس چور بازاری کے خلاف قانون بنانے کے دعوے تو بڑے ہوتے ہیں لیکن عمل درامد نہیں ہوتا۔
جدید دور میں پراپرٹی ٹیکس ملکی شرح نمو کا ایک عشاریہ چھے فیصد ہونا چائیے۔
پاکستان میں یہ ٹیکس مجرمانہ طور پر کم ہے۔
اگر 2006 میں پراپرٹی کی ٹھیک قیمتیں مقرر ہو جاتیں تو آج پنجاب میں اس ٹیکس میں دوگنی رقم آتی۔