Tuesday, September 27, 2022

پاکستان میں کرونا وائرس کے چھٹے کیس کی تصدیق ہو گئی

پاکستان میں کرونا وائرس کے چھٹے کیس کی تصدیق ہو گئی
 اسلام آباد (92 نیوز) پاکستان میں کرونا وائرس کے چھٹے کیس کی تصدیق ہو گئی۔ چھٹا مریض سندھ میں زیر علاج، حالت خطرے سے باہر ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نے کرونا کے حوالے سے ٹویٹر پر اہم پیغام جاری کر دیا اور کہا‏ کہ ہر کسی کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں، صرف کرونا وائرس میں مبتلا افراد ماسک پہنیں۔  کرونا کے مریضوں کا علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹرز اور صحت کا عملہ ماسک استعمال کریں۔ شدید کھانسی یا نزلہ زکام کے مریضوں کو بھی ماسک پہننا چاہئے۔ کسٹم حکام کے مطابق پاک، ایران تفتان بارڈر آج بارہویں روز بھی دو طرفہ تجارت کیلئے بند ہے۔ تفتان بارڈر سے بڑی تعداد میں زائرین اور پاکستانی باشندوں کی وطن واپسی جاری ہے ۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے ایران سے آئے زائرین کو پاکستان ہاؤس قرنطینہ سنٹر منتقل کر دیا گیا۔ پاکستان ہاؤس میں مقیم زائرین کی تعداد دو ہزار دو سو ستر ہو گئی جبکہ قریبی عمارت میں 5 سو سے زائد ایران سے آئے زائرین کو رکھا گیا ہے۔ ہزار گنجی میں قرنطینہ سٹر قائم کیا جارہا ہے۔ تمام زائرین کی ہر 48 گھنٹے بعد اسکریننگ کی جا رہی ہے۔ چمن کے مقام پر پاک، افغان سرحد آج چوتھے روز بھی بند ہے۔ سرحد کی بندش سے دونوں اطراف مال بردار ٹرکوں کی لائنیں لگ گئیں۔ انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔ مریضوں کیلئے متبادل راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب پاک، افغان سرحد طورخم پر کروناوائرس سے بچاؤ کیلئے مسافروں کی اسکریننگ جاری ہے۔  اسسٹنٹ کمشنر طورخم کے مطابق 2 لاکھ 45 ہزار مسافروں کی اسکریننگ کی جا چکی ہے۔ ڈی ایچ او خیبر کا کہنا ہے کہ ایک ماہ کی اسکریننگ کے دوران کرونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ طورخم سرحد  پر طبی عملے میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔  طورخم سرحد پر قرنطینہ سنٹر، آئیسولیشن وارڈ اور طبی عملہ دن رات فرائض انجام دے رہا ہے۔