Friday, January 28, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

پنجاب میں سینیٹ کی 11نشستیں مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار،ایک پی ٹی آئی نے جیت لی

پنجاب میں سینیٹ کی 11نشستیں مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار،ایک پی ٹی آئی نے جیت لی
March 3, 2018

لاہور ( 92 نیوز ) سینیٹ انتخابات کے غیر حتمی ، غیر سرکاری نتائج موصول ہو گئے ہیں ۔ پنجاب کی 12 میں سے 11 نشستوں پر مسلم لیگ ن کےحمایت یافتہ  امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جب کہ ایک نشست پرپاکستان تحریک انصاف جیت گئی ۔

پنجاب کی جنرل نشست پر غیر حتمی نتائج کے مطابق ہارون اختر خان، آصف کرمانی، رانا مقبول، خالد شاہین بٹ  ، مصدق ملک، زبیر گل سینیٹرز منتخب ہوئے جب کہ خواتین کی نشستوں پر سعدیہ خاقان عباسی ، نزہت صادق ، ٹیکنو کریٹس کی نشست پر حافظ عبدالکریم اور اسحاق ڈار سینیٹرز منتخب ہوئے ۔ اقلیتی نشست پر مسلم لیگ ن کے کامران مائیکل سینیٹر منتخب ہوئے ۔
پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب کی واحد نشست  سابق گورنر چودھری سرور نے جیتی ۔ چودھری سرور جنرل نشست پر کامیاب ہوئے ۔

غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق اسلام آباد سے  ٹیکنو کریٹ کی نشست پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ مشاہد حسین سید منتخب ہو گئے ۔ٹیکنو کریٹ کی نشست کیلئے 300 ووٹ کاسٹ ہوئے ، حکومتی حمایت یافتہ مشاہد سید کو 223 ، پیپلز پارٹی کے راجہ شکیل عباسی کو 64 ووٹ کاسٹ ملے ۔ 13 ووٹ مسترد ہوئے ۔

اسلام آباد کی جنرل نشست کیلئے 300 ووٹ کاسٹ کئے گئے ، مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار اسد جنیجو کو 214 ووٹ، پی ٹی آئی کی کنول شوزب کو 32 جبکہ پیپلزپارٹی کے راجہ عمران اشرف  کو 45 ووٹ ملے  ۔ 9 ووٹ مسترد قرار دیئے گئے ۔

اسلام آباد کی دو نشستوں کیلئے 290 سے زائد ارکان نے ووٹ ڈالے جبکہ عمران خان ، شیخ رشید چودھری پرویز الٰہی ووٹ ڈالنے نہیں آئے ۔

سندھ میں ایوان  بالا   کے انتخابات میں پاکستان  پیپلز پارٹی   نے 12 میں سے 10 نشستیں  جیت کر  میدان مار لیا  ۔ مسلم لیگ فنکشنل  اور  ایم کیوایم  پاکستان سینیٹ کی  ایک ایک  نشست اپنے نام کر سکے ۔جبکہ  سندھ میں دلچسپ اعداد و شمار اس وقت سامنے آئے جب الیکشن کمیشن کی جانب سے 44 ووٹ مسترد کر دیئے گئے ۔

پاکستان  پیپلز پارٹی کے رضا ربانی، مولا بخش چانڈیو،امام الدین شوقین، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور محمد علی شاہ جاموٹ جنرل نشستوں  پر سینیٹر منتخب ہوگئے ۔  ٹیکنو  کریٹ کی  نشست پرکامیابی  سکندر میندرو اور رخسانہ زبیری  کا مقدر بنی  ۔ سکندر میندھرو نے  اور رخسانی زبیری  نے 51 ووٹ حاصل کیے۔

 خواتین  کی نشست پر  قرۃ العین مری اور  کرشنا کولہی  فاتح قرار پائیں  ،جبکہ اقلیتی نشست  پرانور لال دین کو کامیابی ملی ۔

خیبرپختونخوا سے سینیٹ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے میدان مارلیا ۔ 11 نشستوں میں سے 5 پی ٹی آئی نے جیت لیں، پیپلزپارٹی نےسینٹ کی 2 نشستیں جیت کر اپ سیٹ کردیا۔  مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ 2 امیدوار بھی کامیاب ہوگئے ،  جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی بھی ایک ایک سینیٹر منتخب کراسکیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں قائم پولنگ اسٹیشن میں سینیٹ کی 11 نشستوں کیلئے 124 کے ایوان میں سے 122 ممبران نے ووٹ ڈالا۔

غیرسرکاری نتائج کے مطابق 7 جنرل نشستوں میں سے 3 پر پی ٹی آئی کے فیصل جاوید، محمد ایوب اور فدا محمد نے کامیابی حاصل کی۔ پیپلزپارٹی کے بہرہ مند تنگی، مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ پیرصابرشاہ اور جماعت اسلامی کے مشتاق احمد خان بھی سینیٹر منتخب ہوگئے۔

ٹیکنو کریٹس کی 2 نشستوں میں ایک پی ٹی آئی کے اعظم سواتی اور ایک مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ دلاورخان کے حصے میں آئی۔

 خواتین کی دو نشستوں میں بھی ایک پر پی ٹی آئی کی مہرتاج روغانی اور دوسری نشست پر پیپلزپارٹی کی روبینہ خالد نے کامیابی حاصل کرکے اپ سیٹ کیا۔ نتائج کے بعد امیدواروں کے حامیوں نے کامیابی کا جشن منایا اور نعرہ بازی کی۔

غیر حتمی نتائج کے مطابق فاٹا سے ہلال الرحمان ، شمیم آفریدی ہدایت اللہ  اور مرزا محمد آفریدی سینیٹرز منتخب ہوئے ۔ چاروں کامیاب امیدواروں نے 7 ،7 ووٹ حاصل کیے۔ فاٹا نشست کیلئے 11 میں سے 8 ووٹ ڈالے گئے ، 3 ووٹرز نے بائیکاٹ کا اعلان کیا ۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق بلوچستان سے آزاد امیدوار احمد خان خلجی ، صادق سنجرانی انوار الحق کاکڑ 8،8 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے  جبکہ جمعیت علماء اسلام ف کے حمایت یافتہ مولانا فیض اللہ ، نیشنل پارٹی کے حمایت یافتہ اکرام دشتی اور پختونخواہ ملی پارٹی کے یوسف کاکڑ بھی سینیٹرز منتخب ہو گئے ۔ خواتین کی نشست پرآزاد امیدوار عابدہ عظیم اورثنا جمالی سینٹر منتخب ہوئیں ۔

بلوچستان میں منحرف گروپ کے حمایت یافتہ چار امیدوار جیت گئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کا حمایت یافتہ کوئی امیدوار کامیاب نہ ہوا ۔