Tuesday, February 7, 2023

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ثقافتی ورثے کا عالمی دن منایا جارہاہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ثقافتی ورثے کا عالمی دن منایا جارہاہے
لاہور ( 92 نیوز ) ہر معاشرہ اپنی جداگانہ روایات، تہذیب وتمدن اور ثقافت رکھتا ہے، کسی بھی ملک وقوم کی تہذیب و ثقافت اس کی تاریخی ترجمان ہوتی ہے ۔  ہر سال 18 اپریل کو عالمی سطح پر ثقافتی ورثے کا دن منایا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر اس دن کو منانے کا مقصد قدیم تہذیبوں اور آثارقدیمہ کو محفوظ بنانا ہے، پاکستان تہذیب وثقافت کی دولت سے مالا مال ہے، جہاں ہڑپہ، موہنجوداڑو، مغلیہ اور گندھارا تہذبوں کے آثار ملتے ہیں۔ پاکستان کے 6 مقامات کو یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرچکا ہے، موہنجوداڑو، تخت بھائی کے کھنڈرات، شاہی قلعہ، شالامار باغ، مکلی کا قبرستان اور جہلم کا قلعہ روہتاس پاکستان کا عظیم ثقافتی ورثہ ہیں ۔ اندرون لاہور کی عمارتیں اور گھر بھی تہذیب وثقافت کے غماز ہیں، انارکلی اور گوالمنڈی میں واقع عمارتوں کی بالکونیاں اور خوبصورت انداز میں گھروں کے سامنے نکلے چھجے قدیم فن تعمیر کا عظیم شاہکار ہیں۔ بادشاہی مسجد، مسجد وزیرخان، اکبری سرائے، حضوری باغ اور مقبرہ جہانگیر بھی فن ثقافت کے امین ہیں  ۔ مسلم وپاکستانی ثقافت کے خدوخال سنوارنے میں وارث شاہؒ، خواجہ غلام فریدؒ، شاہ عبدالطیفؒ، رحمان بابا، اقبال اور فیض احمدفیض کا اہم کردار رہا ہے، خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ، میر تقی میر اور مرزا غالب کے افکار بھی اپنی جگہ مسلمہ اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں،۔ ثقافتی ورثہ ہماری پہچان اور بقا ہے، ورثے ہی کی بدولت ہماری شناخت ہوتی ہے  کیونکہ وہی قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں، جو اپنی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرنا جانتی ہیں۔